کراچی میں تاجروں کو بھتہ خوری کا نشانہ بنانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پولیس کی تازہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ بھتہ خوری کے لیے دھمکی آمیز فون کالز زیادہ تر غیر ملکی نمبروں سے کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کالز بیرونِ ملک بیٹھے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے منسلک ہیں جو کراچی میں پراپرٹی ڈیلرز، الیکٹرانکس فروشوں اور ٹیکسٹائل تاجروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ سندھ پولیس نے ان نیٹ ورکس کے خاتمے اور مقامی کاروباری طبقے کے تحفظ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کراچی کے تاجروں کو بھتہ خوری کی کالز ایران، دبئی، نائیجیریا اور فلپائن میں رجسٹرڈ موبائل نمبروں سے کی جا رہی تھیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں پراپرٹی ڈیلرز کو بھتہ خوری کے کم از کم آٹھ واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پہلا واقعہ 27 ستمبر کو ملیر میں پیش آیا جس پر اسی روز ملیر سٹی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں 13 دسمبر کو ناظم آباد میں کیے گئے چھاپے کے دوران ملیر میں بھتہ خوری میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان مختلف آن لائن ایپلی کیشنز کے ذریعے بھتہ وصول کر رہے تھے۔
دوسرا واقعہ 30 ستمبر کو بہادرآباد میں رپورٹ ہوا جہاں بیرونِ ملک سے آنے والی کال کے ذریعے بھتہ طلب کیا گیا تاہم ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ تیسرا واقعہ 2 دسمبر کو سولجر بازار میں پیش آیا جہاں پولیس کارروائی کے دوران ایک ملزم مارا گیا جبکہ پانچ دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ دسمبر میں صدر، سولجر بازار، گلشنِ اقبال اور ناظم آباد سمیت مختلف علاقوں میں غیر ملکی نمبروں سے بھتہ خوری کی کالز موصول ہوئیں جن کے نتیجے میں متعدد ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ ایک بلڈر کو افریقی ملک سے بھتہ خوری کی کال موصول ہوئی جس پر درخشاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اس حوالے سے بتایا کہ بھتہ خوری کی زیادہ تر کالز غیر ملکی نمبروں سے کی جا رہی ہیں اور ان کے سرغنہ مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اس کیس پر کام کر رہی ہے جبکہ دیگر متعلقہ ادارے بھی تحقیقات میں شامل ہیں۔
تاجروں کی تنظیم کے نمائندے محسن شیخانی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تاجروں کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان کے مطابق بھتہ خوروں کے خلاف چھاپے جاری ہیں اور بلڈرز کے ساتھ ساتھ الیکٹرانکس اور ٹیکسٹائل مارکیٹس سے بھی بھتہ وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








