بھارت کی انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے ایک یکطرفہ اور آمرانہ اقدام کے ذریعے بھارت کے دستور میں شامل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370 کے خاتمے کے چار برس مکمل ہونے پر پاکستان و آزاد کشمیر کے شہر شہر، قصبہ قصبہ اور پوری دنیا میں پاکستانی شہریوں اور متنازع سرحد کے دونوں اطراف کے اہل کشمیر نے ”یوم استحصالِ کشمیر“ منایا اور حسب روایت یک آواز ہوکر مودی سرکار کے اس غیر آئینی اور جارحانہ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
چار سال قبل پانچ اگست 2019کے دن جب بھارت کی ہندو نسل پرست حکمران جماعت بی جے پی نے نہایت مکاری سے بھارتی پارلیمان سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا بل بعنوان ”جموں کشمیر تنظیم نو“ منظور کروایا تو یہ مسئلہ کشمیر کی سلگتی تاریخ میں ایک قیامت خیز مرحلہ تھا۔ اس حوالے سے انتہا پسند بی جے پی کے عزائم ہمیشہ واضح رہے تھے، دہائیوں سے اس شدت پسند جماعت کے لیڈر اس عزم کا اظہار کرتے آ رہے تھے کہ وہ دفعہ 370 کو ختم کرکے کشمیر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر ”حل“ کرکے رہیں گے، بالخصوص گزرے الیکشن میں کشمیر کی امتیازی حیثیت کا خاتمہ بی جے پی کے انتخابی وعدوں میں شامل رہا، چنانچہ الیکشن جیتنے کے فوراً بعد اس انتخابی وعدے اور اپنے دیرینہ منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بی جے پی کی مودی سرکار نے کشمیر کے استحصال کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرکے اپنے تئیں کشمیر کا مسئلہ دفنا نے کا اہتمام کیا۔ بی جے پی کے عزائم اور منصوبوں سے ہر کوئی آگاہ تھا، تاہم حتمی طور پر اس ظالمانہ منصوبے کو کب اور کیسے عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، اس بارے میں آخر تک مودی سرکار نے دنیا کو کوئی بھنک نہ پڑنے دی۔ دنیا اور اہل کشمیر کو اندھیرے میں رکھ کر کشمیر پر شبخون مارنے سے دو دن پہلے البتہ کشمیر میں کرفیو لگا کر اور تمام شہری حقوق یکسر معطل کرکے اس اقدام کیلئے فضا بنائی گئی، تاہم پانچ اگست 2019ءکی شام مودی سرکار کے کشمیر پر اس دستوری و انتظامی جارحیت کے خد و خال واضح ہونے کے بعد سے آج تک لکیر کے دونوں اطراف کے کسی بھی کشمیری نے بھارت کے اس یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ کشمیر پر قبضے کی کوشش کے اس دن کو کشمیریوں نے بجا طور پر ”یوم استحصالِ کشمیر“ کا عنوان دیا اور چار سال سے مسلسل دنیا پر واضح کر رہے ہیں کہ بھارت نے بغیر کسی استحقاق اور جواز کے ان کی مرضی کے بغیر ان کی سرزمین کے متعلق ایسا فیصلہ کیا ہے، جو انہیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
کشمیریوں کا عزم اور ان کا فیصلہ واضح ہے کہ وہ بھارت کے اگست 2019کے اقدام کو پہلے سے مسلط ناجائز قبضے پر ایک اور قبضہ باور کرتے ہیں اور دنیا سے انصاف کے طلب گار ہیںچنانچہ یوم استحصال کے موقع پر اس بار بھی مقبوضہ کشمےر مےں مکمل شٹر ڈاون رہا اور چپے چپے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ مودی سرکار کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرے۔ کشمیریوں کا خیال ہے کہ مودی سرکار نے انہیں دھوکا دیا ہے اور کشمیر کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، یہ بھارت کے سیکولر ازم کے منہ پر طمانچہ ہے۔ دلی کا نیرو مودی دستور میں ناجائز ترمیم کی ماچس سے کشمیر میں آگ لگا کر گو مطمئن ہے کہ اس نے کشمیر کا مسئلہ حل کر دیا ہے اور وہ دنیا کو ملمع کاری کے ذریعے یہ باور کروا رہا ہے کہ 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر میں امن شانتی ہے اور کشمیری خوش و خوشحال ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019ءسے اب تک احتجاجی مظاہروں کے دوران کشمیر میں 1100 سے زاید املاک نذر آتش،21000سے زاید کشمیری بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کردیے گئے ہیں اور پر تشدد رد عمل کے دوران سینکڑوں کشمیری نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کےلئے اوچھے ہتھکنڈوں اور کشمیریوں کے تشویش ناک معاشی حالات نے کشمیر کو جہنم میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ کشمیری بطور خاص اگست انیس کے اقدام کے بعد جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ حالت جنگ سے دوچار خطے کا منظر پیش کر رہے ہیں، جواس امر کا مظہر ہے کہ کشمیری بھارت کے اقدام سے متفق ہیں اور نہ ہی مطمئن، وہ کشمیر کی نارملائزیشن کے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہیں اور دنیا سے انصاف چاہتے ہیں۔
ایک طرف کشمیری پہلے دن سے سراپا احتجاج ہیں اور دنیا پر یہ باور کروانے کیلئے کہ بھارت کا اقدام ناجائز ہے، ہر پر امن راستہ اختیار کر رہے ہیں، گو اس سب کے باوجود بظاہر صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے،تاہم دوسری طرف یہ تنازع بھارت کی سپریم کورٹ میں زیر بحث آنے سے ماہرین کے مطابق کسی قدر امید پیدا ہوگئی ہے۔ کشمیر کے کچھ قانون دانوں کی جانب سے مودی سرکار کا یکطرفہ اقدام بھارتی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا تھا، تقریباً تین سال کے التوا کے بعد گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ نے تمام درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیدیا اور دو اگست سے سماعتوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کیس میں حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے مودی حکومت کے اس بیان حلفی کو بحث سے خارج کر دیا تھا جس کے مطابق دفعہ 370 کے خاتمہ سے کشمیر میں دہشت گردی ختم ہوئی ہے اور امن اور ترقی کا دور شروع ہو گیا ہے۔ بالخصوص اس مقدمے کے پٹشنر پر امید ہیں کہ کسی حد تک منصفانہ فیصلہ آسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی عدالت عظمیٰ میںمودی سرکار کے اقدام کیخلاف تقریباً دو درجن درخواستیں دائر ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق 5 اگست 2019ءکے انڈین حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی اورغیر آئینی قرار دیا جائے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت یعنی دفعہ 370 کو بحال کیا جائے۔اس مقدمے کو انڈین سپریم کورٹ کا پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ سن رہا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ بھارت اور اس کے نظام سے مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں کو معمولی انصاف ملنے کی بھی کوئی توقع نہیں ہے، تاہم چونکہ کشمیر کا معاملہ بالکل واضح ہے اور مودی سرکار نے عالمی معاہدوں اور اپنے دستور کی ضمانتوں تک کو پامال کرکے بہت بڑا بلنڈر کیا ہے، تو کسی درجے میں امید کی جا سکتی ہے، تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ”وکیل“ کی حیثیت سے اس موقع سے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کس طرح اس معاملے میں کشمیریوں کا مقدمہ مضبوط بنانے کیلئے کردار ادا کر سکتا ہے، یہ مقتدر اداروں اور وزارت خارجہ کا امتحان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








