مہنگائی کم ہوئی مگر خطرہ برقرار! ادارہ شماریات کی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ملک میں 21 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی دیکھی گئی جہاں قیمتوں 0.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ مرغی، بجلی کے سہ ماہی چارجز اور لہسن سمیت چند ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی رہی۔

ادارہ شماریات کے مطابق مونگ کی دال کی قیمت میں 1.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں 1.21 فیصد سستے ہوئے۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں 0.87 فیصد، چنے کی دال میں 0.26 فیصد، کیلے میں 0.18 فیصد، انڈوں میں 0.10 فیصد اور ماش کی دال میں معمولی 0.01 فیصد کمی نوٹ کی گئی۔

سالانہ بنیادوں پر مجموعی طور پر 14.47 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی نمایاں وجوہات میں پیاز کی قیمت میں 68.33 فیصد، پیٹرول میں 62.24 فیصد، ڈیزل میں 60.90 فیصد، آٹے میں 59.45 فیصد، ایل پی جی میں 50.73 فیصد اور بجلی کے پہلے سہ ماہی چارجز میں 43.30 فیصد اضافہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹماٹر، مٹن، مرچ پاؤڈر، لہسن، گائے کے گوشت اور کیلے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہفتہ وار بنیاد پر بعض اشیائے خور و نوش اور کپڑے کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ ٹماٹر 7.17 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ پیاز کی قیمت میں 6.08 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح آٹا، لانگ کلاتھ، جارجٹ، آلو، پکی ہوئی دال، تیار چائے، پانچ لیٹر کوکنگ آئل، دہی، شرٹنگ اور پرنٹڈ لان کی قیمتوں میں بھی مختلف شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ایس پی آئی میں شامل 51 اشیاء میں سے 26 اشیاء یعنی تقریباً 51 فیصد کی قیمتیں بڑھیں، 11 اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ 14 اشیاء کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں۔

دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر کچھ اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔ آلو کی قیمت میں 42.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ انڈے 24.47 فیصد اور چنے کی دال 21.84 فیصد سستی ہوئی۔ اسی طرح مرغی، چینی، نمک پاؤڈر، مسور کی دال اور مونگ کی دال کی قیمتوں میں بھی کمی سامنے آئی۔

آمدنی کے مختلف طبقات کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر SPI کا جائزہ لیا جائے تو 17,732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے مہنگائی میں 11.79 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد ان کا اشاریہ 300.18 سے بڑھ کر 335.56 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔؎

17,733 سے 22,888 روپے آمدنی والے طبقے میں SPI میں 14.32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اشاریہ 297.38 سے بڑھ کر 339.97 پوائنٹس ہوگیا۔ 22,889 سے 29,517 روپے آمدنی والے گھرانوں کے لیے یہ اضافہ 12.84 فیصد رہا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے طبقے میں 12.81 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ یعنی 44,175 روپے یا اس سے زائد کمانے والے افراد کے لیے SPI میں 14.17 فیصد اضافہ ہوا۔

ہفتہ وار بنیاد پر کم آمدنی والے طبقے یعنی 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے ایس پی اے میں معمولی 0.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور اشاریہ 335.77 سے کم ہو کر 335.56 پوائنٹس پر آگیا۔

اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے اشاریے میں 0.28 فیصد کمی دیکھی گئی۔ 22,889 سے 29,517 روپے آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے SPI میں 0.15 فیصد کمی ہوئی جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے طبقے میں 0.13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ، یعنی 44,175 روپے یا اس سے زائد آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ہفتہ وار بنیاد پر SPI میں 0.36 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد اشاریہ 361.33 سے کم ہو کر 360.04 پوائنٹس تک آگیا۔

Related Posts