کراچی: ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اپنے سابق قائم مقام سیکریٹری ڈاکٹر نوید احمد کے خلاف خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے کے الزامات پر باضابطہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
یہ کارروائی متعدد تحریری شکایات موصول ہونے کے بعد بورڈ کے چیئرمین غلام حسین سوہو کے احکامات پر کی گئی ہے۔
انکوائری آرڈر کے مطابق متاثرہ خواتین نے نہ صرف تحریری شکایات جمع کرائیں بلکہ بطور ثبوت آڈیو ریکارڈنگز اور ان کے متون (ٹرانسکرپٹس) بھی پیش کیے گئے ہیں۔
دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر نوید احمد نے خواتین افسران کے ساتھ نازیبا گفتگو کی، ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، عملے کے ساتھ توہین آمیز اور بدزبانی پر مبنی رویہ اختیار کیا اور دفتری ماحول کو غیر محفوظ اور امتیازی بنا دیا۔
مزید برآں ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے بھی الزامات لگائے گئے ہیں۔
چیئرمین غلام حسین سوہو نے انکوائری کے لیے کنٹرولر امتحانات حمزہ خان کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے جبکہ ایک خاتون پرنسپل کو انکوائری کمیٹی کی رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
یہ کمیٹی معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گی تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا مذکورہ کارروائیاں خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 (ترمیم شدہ 2022)، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 (عزتِ نفس کے حق) اور سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں یا نہیں۔
بورڈ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اپنی سفارشات چیئرمین کو پیش کرے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات غیر جانبدارانہ اور شواہد کی بنیاد پر مکمل کی جائیں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بدعنوانی یا غیر اخلاقی عمل کو بے نقاب کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








