ایران جنگ: اسلام آباد میں سیزفائر معاہدہ کیوں نہ ہوسکا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات
(فوٹو: آن لائن)

گزشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچے اور دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات زوروشور سے شروع ہوئے، تاہم 21 گھنٹوں تک بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی۔ ایران کا امریکا سے معاہدہ کیوں نہ ہوسکا، اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعطم شہباز شریف نے حیرت انگیز کام کیا۔ دونوں نے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ مذاکرات میں جو کمی رہ گئی، وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھی، پاکستان نے فاصلے کم کرنے کیلئے بہترین کام کیا۔ پاکستان نے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی۔

امریکا ایران مذاکرات 21 گھنٹے جاری رہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم  نے نیک نیتی سے شرائط پیش کیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران سے سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ بری خبر یہ ہے کہ کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا، ہم ایک سادہ تجویز اور باہمی سمجھ بوجھ کے طریقہ کار کے ساتھ آئے تھے۔ دیکھتے ہیں ایران ہماری آخری اور بہترین پیشکش قبول کرتا ہے یا یہں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ریڈ لائنز اور جن چیزوں کو موضوع بنا سکتے ہیں، وہ بتا دی ہیں۔ ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔ ہم نے ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا۔ ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ صدرٹرمپ کا بھی یہی مقصد ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود آبنائے ہرمز کی صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔ مذاکرات کے دوران امریکا نے وہ سب کچھ مانگا جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہ کرسکے۔ امریکا کے حد سے زائد مطالبات نے مشترکہ فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ آبنائے ہرمز اور جوہری ہتھیاروں سمیت کئی معاملات اختلافات کا باعث بن گئے۔

Related Posts