کراچی میں شدید احتجاج، جماعت اسلامی کے کارکنان تمام رکاوٹیں توڑ کر سندھ اسمبلی پہنچ گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

جماعت اسلامی کی ریلی، فائل فوٹو
جماعت اسلامی کی ریلی، فائل فوٹو

جماعت اسلامی کے کارکنان تمام رکاوٹیں توڑ کر سندھ اسمبلی کے باہر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جماعت اسلامی کی ریلی تمام رکاوٹیں توڑ کر سندھ اسمبلی پہنچ گئی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

پولیس انتظامیہ نے پہلے ہی راستے میں موبائل اور بسیں کھڑی کر کے کارکنان کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، اہلکاروں نے کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ابتدائی مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا، جماعت اسلامی کے نائب امیر و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان راستے پر بیٹھ گئے اور پولیس سے راستہ کھولنے کی درخواست کی۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دیا جائے گا، انہوں نے وعدہ کیا کہ دھرنے کے دوران کسی بھی قسم کا نقصان یا پتھر بازی نہیں کی جائے گی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پولیس اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ کشیدگی شہر کے اہم سیاسی اور حکومتی مرکز کے سامنے برقرار ہے، اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔

پولیس سے مذاکرات کی ناکامی پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا ہے، جس پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

Related Posts