عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ حکومت کیلئے کیسے دردِ سر؟ دلچسپ حقائق سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان
(فوٹو: آن لائن)

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ حکومت کیلئے دردِ سر بن گیا، یہ اکاؤنٹ کون چلاتا ہے؟ تحریکِ انصاف میں کسی کو معلوم نہیں تاہم اکثر رہنماؤں نے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ یہ اکاؤنٹ کون چلاتا ہے، یہ بات سب کو معلوم ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک جانب تو پی ٹی آئی رہنما یہ کہتے نظر آئے کہ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کون چلاتا ہے، یہ عمران خان کے سوا کوئی نہیں جانتا، لیکن متعدد رہنماؤں نے کہا کہ یہ بات تو سبھی کو معلوم ہے لیکن کسے؟ یہ ابھی تک معلوم نہ ہوسکا۔

دوسری جانب اسی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے عمران خان کی جانب سے کی جانے والی کتنی ہی پوسٹس ریاست مخالف ہوتی ہیں جس پر حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرڈالی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت کے سابق سربراہ کو ذہنی مریض کہا۔

یہی نہیں بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تو عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے بیانات کو ریاست مخالف قرار دیا اور ان کی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے کہ تم ہو کون؟ اور واضح کیا کہ بہت ہوگیا اور ریاست مخالف بیانات اب برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان سے منسوب اکاؤنٹ سے آنے والے پیغامات بھارتی اور افغان اکاؤنٹس پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

چند ہی روز قبل این سی سی آئی اے افسران نے بھی عمران خان سے تفتیش کے دوران پوچھا کہ آپ کا ایکس اکاؤنٹ کون چلاتا ہے؟ تاہم سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی زبان نہ کھولنے کا فیصلہ کیا، جبکہ موجودہ چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان اور دیگر رہنماؤں نے اس پر اپنی رائے بھی دی۔

بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کون استعمال کرتا ہے اور پوسٹس کہاں سے کی جاتی ہیں، اگر اس اکاؤنٹ کا کنٹرول میرے پاس ہوتا یا مشاورت سے پوسٹنگ ہوتی تو میں اسے کبھیایسی متنازعہ یا سخت پوسٹس کیلئے استعمال نہ کرتا۔

اسی طرح بیرسٹر علی ظفر نے بھی عمران خان کے اکاؤنٹ کو چلانے والے کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو عمران خان کا اکاؤنٹ ہینڈل کرتا ہے وہ سب کو ہی معلوم ہے مگر ہماری پارٹی بھی لاعلم ہے کہ اصل میں اسے کون استعمال کرتا ہے۔

یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان کے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عمران خان کے حق میں تو بیانات آتے ہی ہیں لیکن حکومت مخالف بیانات اور ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی بھی بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ترجمان پاک فوج کو باقاعدہ پریس کانفرنس کرنی پڑی جبکہ حکومت کے وزرا اور فیصل واؤڈا سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے ریاست مخالف بیانات کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Related Posts