جب دنیا کے طاقتور ترین ملک امریکا کے طاقتور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں برس 29ستمبر کو غزہ امن منصوبے کا فیصلہ ہوا اور مزید ممالک بشمول پاکستان، ترکی، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سعودی عرب اور مصر نے اس کی حمایت کی جن کے پیچھے او آئی سی اور مغربی ممالک کی حمایت بھی شامل ہے تو اصولی طور پر اس منصوبے کی کامیابی تو پتھر پر لکیر کی طرح واضح ہونی چاہئے تھی، لیکن افسوس، کہ ایسا تاحال نہیں ہوسکا۔
آگے چل کر جب 17نومبر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد نمبر 2803کے تحت امریکا کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا تو اس پر عملدرآمد برق رفتاری سے ہونا وقت کی ضرورت بن گئی ، تاہم جب یہ نہ ہوا تو اسرائیل جیسے عیار ملک کی جانب سے غزہ پر حملے سمیت انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں ہونا قدرتی امر سے کم نہیں کیونکہ اسرائیلی حکومت تو آغاز سے ہی یہی چاہتے ہیں کہ غزہ کے شہری دربدر ہو کر وہاں سے نکلیں اور اسی لیے اس نے رفح کراسنگ کو ایک طرف سے تو کھول دیا لیکن مصر کی سمت سے بند رکھا تاکہ غزہ چھوڑ کر جانے والے فلسطینی کہیں اپنے وطن واپس نہ آجائیں، جس پر مصر سمیت باقی 8 ممالک نے احتجاج اور اپنے تحفظا ت کا اظہار کیا ہے جن کے نام اوپر مذکور ہیں۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی کیلئے گزشتہ 2سالوں میں 3قراردادیں منظور ہوئیں تاہم اسرائیل نے ان پر عملدرآمد نہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرنا اور زمینی و فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت پر امن شہریوں کی قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی راہ میں اب کون سی مشکلات حائل ہیں اور ان کا ذمہ دار کس کو سمجھنا چاہئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان سمیت ان 8ممالک کو ہی سمجھنا چاہئے جس پرغزہ امن منصوبے سے لاعلم افراد تعجب کا اظہار کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔
دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا فیز 1 مکمل ہوگیا جس کے تحت حماس نے تمام 26اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے اور سوائے ایک شخص کی لا ش کے تمام ہلاک یرغمالیو ں کی لاشیں بھی واپس کردی ہیں۔ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی حمایت میں اسرائیل یہ حیلے بہانے بنا رہا ہے کہ اس طرف سے فائرنگ ہوتی ہے تو ایکشن لیا جاتا ہے، اس بہانے سے اسرائیل نے 10اکتوبر سے اب تک تقریباً 591خلاف ورزیاں کی ہیں، 370 سے زائد افراد شہید جبکہ 950 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہاں یہ ذکر بھی کرتے چلیں کہ 20نکاتی امن پلان کیلئے ترکیہ اور قطر نے حماس کو اعتماد میں لے کر اقدامات اٹھائے اس پر حماس کا یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے کہ دنیا کی کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل ہتھیار نہیں ڈالے تو حماس بھی قابض اسرائیلی فوج کی موجودگی میں کیسے ہتھیار ڈال سکتی ہے؟
غزہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل کی قابض فورسز ییلو لائن پر واپس جا چکی ہیں ، اورغزہ کا نصف رقبہ تاحال اسرائیل کےقبضے میں ہے جوکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تو ہے ہی لیکن غزہ کو خالی کرنے کے نکتے کے عملدرآمد پر تعطل کی ذمہ داری 8ممالک پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ ان ممالک کو غزہ میں اپنی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کو تعینات کرنا تھا جسے مختصراً آئی ایس ایف کہا جاتا ہے۔ انڈونیشین صدر پاکستان کے سرکاری دورے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے اور9 دسمبر کو دونوں ممالک کے مابین ایم او یوز پر بھی دستخط ہوئے تاہم انڈونیشیا وہ ملک ہے جس نے غزہ کی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کیلئے 20 ہزار فوجی تعینات کرنے کاعہد کیا ہے۔
اس سے قبل مصر کے وزیر خارجہ بھی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں، اور امن پلان کے تمام حمایتی ممالک میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ آئی ایس ایف کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکے جبکہ اس میں جتنی دیر کی جائے گی ،فورس کاقیام جب تک عمل میں نہیں آئے گا، اوراسرائیل غزہ کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتا رہے گا، جیسا کہ کسی بھی بدخصلت دشمن سے توقع کی جاسکتی ہے۔ بیس نکاتی ایجنڈے کا 14واں نکتہ ہی فورس کے قیام کا ہے تاکہ وہ فورس اسرائیلی فورسز کے سامنے کھڑی ہوں اور اسرائیلی فورسز علاقہ خالی کردیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے جلد از جلد قیام کو یقینی بنائیں تاکہ اسرائیل کو غزہ کے نہتے شہریوں پر مزید بمباری اور زمینی و فضائی حملوں کا موقع نہ مل سکے۔ بصورتِ دیگر اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے شہریوں کا قتل عام دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے جسے روکنے کی سرتوڑ کوششیں کرنا ہوں گی۔ اسی امن منصوبے میں 19ویں نمبر پر یہ نکتہ موجود ہے کہ بورڈ آف پیس کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور جب فلسطینیوں کی ایک ٹیکنیکل کمیٹی بن جائے گی جو اپنے علاقے کا نظام خود سنبھالے گی، حماس ان کے سامنے ہی ہتھیار ڈالے گی جس کے ساتھ ہی امن منصوبے پر عملدرآمد مکمل ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








