وسطی ایشیائی ملک ازبکستان میں رمضان المبارک کی دلچسپ روایات

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو انادولو

وسطی ایشیائی ملک ازبکستان میں رمضان المبارک سے کئی دلچسپ روایتیں جڑی ہوئی ہیں، جن کے تحت ماہ صیام کو خاندان کے اتحاد کی علامت باور کیا جاتا ہے۔

نوجوان خاندان عام طور پر رمضان کے مہینے میں اپنے والدین کے گھر جاتے ہیں اور والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ افطار کرتے ہیں، اپنے ساتھ افطاری کے لیے تیار کردہ کھانا لاتے ہیں اور پھر ایک ہی دسترخوان پر خاندان کے تمام افراد مل کر کھاتے ہیں۔

ازبک خاندان رمضان کے دوران اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی اپنے گھروں پر مدعو کرتے ہیں۔ رمضان کی میز ازبکستان میں خاندانوں، دوستوں اور پڑوسیوں کے لیے ملاقات کی جگہ کا روپ دھارتی ہے اور سب خوشی خوشی اس روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ازبکستان میں رمضان کا دسترخوان متنوع ہوتا ہے، مکھن اور دودھ کے ساتھ پکی ہوئی “بتیر” روٹی اور سبزیوں کے استعمال سے تیار کی جانے والی “کوک سمسا” پیسٹری عام طور پر اجتماعی افطار کی میز پر روایتی سوپ کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ازبک پلاؤ تو ویسے بھی ہر ازبک ضیافت کی جان ہوتا ہے۔ سو رمضان کی افطار پارٹیوں میں بھی اس کی خوشبو موجود ہوتی ہے۔

روایت یہ ہے کہ محلے کا بڑا یا کوئی معزز شخص افطار کے بعد نماز مغرب پڑھاتا ہے، اس کے بعد کھانا کھایا جاتا ہے اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد نماز تراویح باجماعت ادا کی جاتی ہے، جس کے بعد مہمان اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

رستم بیک حمرابیکوف (68 سال عمر) نے ازبکستان میں رمضان کی اس قدیم روایت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ رمضان ایک بابرکت مہینہ ہونے کے علاوہ خاندانوں کو دوبارہ ملانے اور رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے 4 بچے ہیں جن میں سے 3 اپنے خاندانوں کے ساتھ الگ الگ گھروں میں رہتے ہیں اور وہ اپنی بیویوں اور بچوں کے ساتھ رمضان المبارک میں افطار کی میز پر ملنے کے لیے اکثر ہمارے گھر آتے ہیں۔

حمرابکوف کے مطابق رمضان خاندانوں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔

 حمرابکوف کی بیوی دلبر حمرابیکوفا نے بتایا کہ ان کے خاندان میں افطاری سے جڑی بڑی خوبصورت روایات موجود ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی ساس سے سیکھی ہوئی رمضان کی روایات اور رسومات کو اپنی بیٹیوں کو منتقل کیا ہے۔.

ایک بڑے خاندان والے گھر میں دسترخوان کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ جو کھانا سب سے پہلے خاندان کے بزرگ کے سامنے رکھا جاتا ہے اور باقی خاندان اس وقت تک انتظار کرتا ہے، جب تک کہ خاندان کا بڑا کھانا شروع نہ کر دے اور وہ اس کے بعد کھانا شروع کرتے ہیں۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد خاندان کا سربراہ شکر کی دعا پڑھتا ہے، پھر خاندان کے چھوٹے افراد دسترخوان سے اٹھنے والوں کے ہاتھ دھلوانے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

Related Posts