پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ضلع پنجگور میں انٹرنیٹ سروس کی بندش پر اہم بریفنگ دی گئی۔
وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ 22 مارچ کو سیکیورٹی ایجنسیوں سے کلیئرنس مانگی گئی، مگر انہوں نے آئندہ 6 ماہ کے لیے اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ حکام نے واضح کیا کہ “بی ایل اے کے دہشت گرد ہمارا انٹرنیٹ استعمال نہیں کر رہے، وہ دیگر ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔”
کمیٹی ممبر پولین بلوچ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے پنجگور میں یہی صورتحال ہے، اب اگلے چھ ماہ میں کیا بدل جائے گا؟ میرے علاقے کو سزا دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران سائبر سیکیورٹی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ5 سے 10 مئی کے دوران پاکستان پر سائبر حملے کیے گئے لیکن نیشنل سرٹ اور دیگر ماہرین نے حملے ناکام بنا کر ملک کے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ رکھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








