غیرمعمولی منافع کاوعدہ کرنیوالے این ایف ٹی ٹریژر نے عارضی طور پر رقم نکالنے کی سہولت محدود کر دی ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں میں اس کی ساکھ اور استحکام کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کچھ صارفین کو کامیابی سے اپنی رقم نکالنے کی اجازت دی گئی لیکن متعدد افراد نے تاخیر، اکاؤنٹس کے منجمد ہونے یا مکمل طور پر درخواست مسترد کیے جانے کی شکایات کی ہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پلیٹ فارم مالی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص پیٹرن دیکھنے میں آ رہا ہے، ابتدائی سرمایہ کاروں اور نئے صارفین کو ریفر کرنے والے افراد کو نکاسی کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دیگر صارفین کو نامعلوم تکنیکی مسائل یا مبہم جوازوں کی بنیاد پر روک دیا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے جواب میں، این ایف ٹی ٹریژر نے ایک بیان جاری کیا جس میں ان رکاوٹوں کی وجہ مقامی قوانین سے مطابقت اور فنڈز کی سیکورٹی میں بہتری قرار دی گئی۔
کمپنی نے اعلان کیا کہ نکاسی کی پروسیسنگ کا وقت 96 گھنٹوں سے بڑھا کر 168 گھنٹے کر دیا گیا ہے اور یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ تمام زیر التوا لین دین اندرونی آڈٹ کے بعد مکمل کر دیے جائیں گے۔
ان وضاحتوں کے باوجود، شکوک و شبہات بدستور برقرار ہیں۔ بہت سے صارفین کو خدشہ ہے کہ رقم کی منتقلی میں تاخیر محض ایک حربہ ہے تاکہ بڑے پیمانے پر نکاسی سے پہلے پلیٹ فارم کو ممکنہ طور پر بند ہونے سے بچایا جا سکے۔
اس غیر یقینی صورتحال کے دوران، سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا این ایف ٹی ٹریژر واقعی ضابطہ جاتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے یا پھر یہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








