ایران کا محاذ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے دردِ سر بن گیا، اب تک کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چند روزہ آپریشن ایپک فیوری کئی سال طویل جنگ پر بھاری پڑتا نظر آرہا ہے۔
عالمی جریدے فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران میں ہتھیاروں کا کئی سالہ ذخیرہ استعمال کرلیا، اس کے باوجود رجیم چینج کا ہدف کوسوں دور نظر آتا ہے۔، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد نئے سپریم لیڈر نے شہدا کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ٹوماہاک جیسے مہنگے میزائلوں کے ذخائر جس تیزی سے کم ہورہے ہیں، اس پر امریکی قیادت کو تشویش لاحق ہے۔ جنگ پر بڑھتے ہوئے اخراجات پینٹاگون کو اضافی 50ارب ڈالرز کی فنڈنگ کی درخواست دینے پر مجبور کردیں گے، جس سے امریکی کانگریس میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوسکتا ہے۔
گزشتہ ماہ 28فروری سے شروع کی گئی ایران جنگ میں آغاز ہی سے فریقین نے تیز رفتار اور جارحانہ کارروائیاں کیں جن میں دونوں جانب انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا جبکہ ایران کو سپریم لیڈر اور سیاسی و قیادت کے علاوہ 1 ہزار 300 سے زائد شہریوں کی شہادت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
تاہم اب تک ایرانی حکومت کا امریکا اور اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکنے یا ہتھیار ڈالنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا، بلکہ ایرانی قیادت ہر گزرتے روز کے ساتھ دشمنوں کے خلاف سخت اعلانات کر رہی ہے، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو دونوں کو تشویش لاحق ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے علاوہ ایران بھی ہتھیاروں کا اتنی تیزرفتاری کے ساتھ استعمال کررہا ہے جتنی تیزی سے یہ ہتھیار تیار بھی نہیں کیے جاسکتے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے پاس چند ہزار میزائلوں کی موجودگی کا جو اندازہ امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے آغاز سے قبل لگایا تھا، وہ غلط ثابت ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








