ایران پر امریکا و اسرائیل حملے: آگ اور خون کی یہ ہولی کہاں تھمے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران
(فوٹو: آن لائن)

پہلے امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مربوط فضائی حملوں کا آغاز کیا تو بہت سے مبصرین نے اسے ایک محدود عسکری کارروائی سمجھا۔ مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ خوش فہمی ٹوٹ گئی۔

تہران کے قلب پر بمباری، ریاستی نشریاتی ادارے اور تاریخی مقامات کو نشانہ بنانا، اور بالآخر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت،  یہ سب ایسے واقعات تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور ہولناک جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی یہ تنبیہ کہ “ابھی مزید سخت وار باقی ہیں” اس آگ پر تیل کا کام کر رہی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ حملے اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی مقاصد پورے نہیں ہو جاتے۔

ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں ایک گرلز اسکول پر حملے میں کم از کم 165 طالبات جاں بحق ہوئیں۔ تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے کمپلیکس اور عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے تاریخی گلستان پیلس کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقصد ایران کی بحری صلاحیت کو مفلوج کرنا اور اس کے جوہری و میزائل عزائم کا خاتمہ ہے۔ دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی طویل المدت جنگ کا خواہاں نہیں، بلکہ ایران کی پالیسی سوچ کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

ایران نے بھی فوری اور سخت ردِعمل دیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ گزرنے والی ہر کشتی کو نذرِ آتش کر دیا جائے گا۔ خلیجی ممالک میں امریکی اور اتحادی اہداف پر حملے کیے گئے، توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور قطر کے العدید ایئربیس پر میزائل گرے۔ قطر نے درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرائے، مگر دو میزائل اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔ کویت میں تین امریکی لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے “غلطی سے مار گرایا جانا” قرار دیا۔ سعودی عرب نے ریاض اور الخرج کے قریب آٹھ ڈرون تباہ کیے، جبکہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ ہوا۔ امریکا نے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اپنے شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایران کی داخلی قیادت میں بھی ایک ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، جو ماضی میں مفاہمانہ اور معتدل چہرہ سمجھے جاتے تھے، اب سخت لہجہ اختیار کر چکے ہیں۔ 3 جون 1958 کو نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے والد مرزا ہاشم ممتاز عالمِ دین تھے، جبکہ اُن کے بھائی عدلیہ اور مجلسِ خبرگان جیسے کلیدی اداروں میں اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔ ٹائم میگزین نے 2009 میں اس خاندان کو “ایران کے کینیڈیز” قرار دیا تھا۔ اب یہی لاریجانی، جو کبھی مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کرتے اور ایمانوئل کانٹ پر کتابیں لکھتے تھے، اعلان کر رہے ہیں کہ “ہم صہیونی مجرموں اور بے شرم امریکیوں کو ایسا سبق سکھائیں گے جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔” تجزیہ کاروں کے مطابق وہ عبوری تین رکنی کونسل کے ساتھ مل کر ایران کی نئی عسکری حکمتِ عملی تشکیل دے رہے ہیں۔

ادھر لبنان بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اسرائیل نے مسلسل دوسرے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ اور حارۃ حریک پر بمباری کی، جنہیں حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے 59 علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈ مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پیر کے حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے۔ الجزیرہ کی نمائندہ ہائیڈی پیٹ کے مطابق ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، اسکول بند ہیں اور عمارتیں عارضی پناہ گاہوں میں بدل دی گئی ہیں۔

حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ایئربیس پر ڈرونز کے جھنڈ کے ذریعے حملے کا دعویٰ کیا اور اسے اسرائیلی جارحیت کا جواب قرار دیا۔ اسرائیلی دفاعی نظام نے ایران اور لبنان سے آنے والے کئی میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات چند ماہ میں ناقابلِ تسخیر ہو جاتیں، اس لیے یہ کارروائی “تیز اور فیصلہ کن” ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالآخر ایرانی عوام کو اپنی حکومت تبدیل کرنا ہوگی۔

یوں مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں سفارتی زبان کی جگہ دھمکیوں نے لے لی ہے اور عالمی طاقتیں براہِ راست میدان میں اتر آئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی منڈیوں میں ہلچل، خلیجی ریاستوں میں عسکری تناؤ اور لبنان میں نئی محاذ آرائی، یہ سب اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ بحران محض دو ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا۔ سوال اب یہ نہیں کہ جنگ کتنی شدید ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس آگ کو پھیلنے سے روکا بھی جا سکے گا یا نہیں؟ آگ اور خون کی یہ ہولی کہاں تھمے گی؟ اور اس کا مختصر الفاظ میں جواب یہ ہے کہ فی الحال کوئی نہیں جانتا۔

Related Posts