حسن خمینی ایران کے نئے سپریم لیڈر ہونگے ؟ جانیے بانی انقلاب امام خمینی کے پوتے کی داستان حیات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کی منتقلی کا آئینی عمل شروع ہو چکا ہے اور ممکنہ جانشینوں کے ناموں پر سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ان نمایاں شخصیات میں حسن خمینی کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے جو بانی انقلابِ اسلامی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے ہیں۔

حسن خمینی 21 جولائی 1972 کو قم میں پیدا ہوئے۔ وہ سید احمد خمینی اور سیدہ فاطمہ طباطبائی کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے 1989 میں باقاعدہ دینی تعلیم کا آغاز کیا اور 1993 میں عالمِ دین بنے بعد ازاں قم میں تدریسی خدمات انجام دیں اور اسلامی فرقوں کے موضوع پر علمی کام بھی کیا۔ 1995 میں انہیں اپنے دادا کے مزار کا متولی مقرر کیا گیا جو ایران میں ایک نہایت اہم اور علامتی منصب سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی طور پر انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے وفادار حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے تاہم وہ اصلاح پسند رجحانات کے قریب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ سابق صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی سے ان کی قربت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے لیکن انہوں نے گارڈین کونسل کی جانب سے اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے عمل پر تنقید کی ہے۔

Al-Maaref:: Islamic Organization | Imam Khomeini: Family Life

سن 2022 میں ایرانی خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے واقعے پر حسن خمینی نے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کو واضح طور پر قوم کو آگاہ کرنا چاہیے کہ 22 سالہ خاتون کے ساتھ کیا پیش آیا تاہم انہوں نے قیادت کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں کی بھی مذمت کی اور شدید بدامنی کے ادوار میں ریاستی نظام کی حمایت کا اظہار کیا۔

ayatollah ruhollah khomeini s grandson hassan khomeini stands next to iran s supreme leader ayatollah ali khamenei during the 36th anniversary of the death of the leader of iran s 1979 islamic revolution ayatollah ruhollah khomeini at khomeini s shrine in southern tehran iran june 4 2025 file photo office of the iranian supreme leader reuters

مذہبی حلقوں میں انہیں نسبتاً روشن خیال اور معتدل عالم قرار دیا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق، سماجی آزادیوں اور موسیقی جیسے موضوعات پر ان کے خیالات کو نرم اور ترقی پسند سمجھا جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے رجحانات پر نظر رکھتے ہیں اور اسلامی فکر کے ساتھ مغربی فلسفے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ نوجوانی میں فٹ بال کھیلنے کے شوقین تھے تاہم 21 برس کی عمر میں ان کے دادا نے انہیں قم جا کر باقاعدہ دینی و الٰہیاتی تعلیم حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

Khamenei's death brings Khomeini's grandson into focus - AL-Monitor: The  Middle Eastʼs leading independent news source since 2012

تقریباً ایک دہائی قبل انہوں نے مجلسِ خبرگان کے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی جو سپریم لیڈر کے انتخاب کا آئینی ادارہ ہے تاہم گارڈین کونسل نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ سرکاری طور پر اس کی وجہ ان کا مذہبی درجہ حجت الاسلام بتایا گیا جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم سمجھا جاتا ہے جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اصلاح پسند دھڑے کو مضبوط ہونے سے روکنے کی کوشش بھی تھا۔

خارجہ امور کے حوالے سے حسن خمینی اسرائیل کو شیطانی صہیونی ریاست اور سرطانی وجود قرار دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ مسلم دنیا کو صہیونیت کے مقابلے کے لیے متحد اور طاقتور ہونا ہوگا۔

رہبرِ اعلیٰ کی شہادت پر اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو ایران اور امتِ مسلمہ کا ہیرو قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم امام خمینی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اس مشکل مرحلے سے بھی گزر جائے گی۔

حسن خمینی اپنی خاندانی نسبت، مذہبی پس منظر اور معتدل سیاسی شناخت کے باعث ممکنہ جانشینوں میں اہم سمجھے جا رہے ہیں تاہم حتمی فیصلہ مجلسِ خبرگان کرے گی اور یہ عمل ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

Hassan Khomeini – Zamaneh Media

ذاتی زندگی کے حوالے سے وہ سیدہ فاطمہ سے شادی شدہ ہیں، جو ایک آیت اللہ کی صاحبزادی ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔

Related Posts