ایران کی بگرام ایئربیس کے حوالے سے افغانستان کو وارننگ

تازہ ترین

تازہ ترین

کابل میں تعینات ایرانی سفیر
کابل میں تعینات ایرانی سفیر، فوٹو شمشاد میڈیا

بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں ایک واضح پیغام دیتے ہوئے افغانستان میں ایران کے سفیر اور خصوصی نمائندے حسن کاظمی قمی نے خبردار کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس کو غیر ملکی فوجی مقاصد کے لیے دوبارہ فعال کرنے کی کسی بھی کوشش کو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جائے گا۔

شمشاد ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ یہ اسٹریٹجک تنصیب، جو دو دہائیوں تک جاری رہنے والی بین الاقوامی فوجی مداخلت کی علامت بن چکی تھی، صرف اور صرف افغان حکومت کے مکمل خودمختار کنٹرول میں رہنی چاہیے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بگرام ایئر بیس کے مستقبل کے بارے میں ایک بار پھر قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان سے بگرام ایئر بیس امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اس حوالے سے اعلیٰ سطحی مشاورت اور وسطی ایشیا کے قلب میں واقع اس اڈے کی تاریخی حساسیت بھی زیر بحث ہے۔

قمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک مستحکم اور خودمختار افغانستان کی حمایت کی اپنی پالیسی پر قائم ہے، جو بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔ ان کے بقول گزشتہ بیس برس کی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ غیر ملکی فوجی موجودگی داخلی کشیدگی کو مزید بڑھاتی ہے اور وہ سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

براڈکاسٹر کی جانب سے جاری کردہ انٹرویو کے ایک کلپ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر امریکی افواج دوبارہ بگرام واپس آ جاتیں تو ممکن تھا کہ آج ہم اور آپ (افغانستان) کسی تنازع میں الجھے ہوتے۔

حالیہ امریکا ایران کشیدگی اور افغانستان کے اندر پاکستان کی فوجی کارروائیوں کے پس منظر میں ایرانی سفیر کا یہ بیان ایک پیشگی سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد کابل کی قیادت اور عالمی طاقتوں کو تہران کی “سرخ لکیر” سے آگاہ کرنا ہے، خصوصاً ان قوتوں کو جو افغانستان سے جانے والی افواج کے چھوڑے ہوئے اسٹریٹجک اثاثوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Related Posts