امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا یہ وضاحت اس خبر کے بعد سامنے آئی جس میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ دو میزائل ایک امریکی بحری جہاز سے ٹکرائے جس کے باعث اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔
امریکی اہلکار نے پیر کی دوپہر کو تصدیق کی کہ ایران کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کے علاوہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی امریکی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور مزید بتایا کہ امریکی افواج پروجیکٹ فریڈم کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔
یہ تردید اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی داخلی راستے پر واقع بندرگاہ جاسک کے قریب ایک امریکی فریگیٹ پر دو میزائل لگے جس کے نتیجے میں اسے واپس مڑنا پڑا۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق تہران نے مزید حکمتِ عملیاں بھی تیار کر رکھی ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے یہ بات ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے کہی گئی۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران ایران کئی بار یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ اس نے خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جن میں مارچ کے آغاز میں یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار جہاز بھی شامل تھا۔
اس پر اس وقت سینٹکام نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ داغے گئے میزائل قریب بھی نہیں پہنچے تھے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ADNOC کا ایک قومی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دو ڈرونز کی زد میں آیا تاہم اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جس میں جہاز رانی کی آزادی پر زور دیا گیا ہے اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کو مسترد کیا گیا ہے۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ یا معاشی بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قزاقی کے مترادف ہے اور یہ عمل نہ صرف خطے کے استحکام اور اس کے عوام بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران نے پیر کے روز پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کی تجویز جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔
ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ کمان کی جانب سے جاری بیان میں امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے خبردار کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم بارہا واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور ہر قسم کی محفوظ گزرگاہ کو انہی کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
بیان میں واضح طور پر خبردار کیا گیا کہ کوئی بھی غیر ملکی فوج خاص طور پر امریکی افواج اگر اس آبنائے میں داخل ہونے یا اس کے قریب آنے کی کوشش کرے گی تو اس پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
اسی روز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اس علاقے کا ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا جسے وہ اپنے کنٹرول میں بتاتی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دعوے میں کتنا اضافہ یا تبدیلی کی گئی ہے۔
اس نقشے کے مطابق مغرب میں یہ علاقہ ایران کے جزیرے قشم کے مغربی سرے سے متحدہ عرب امارات کی ریاست ام القوین تک ایک لکیر سے شروع ہوتا ہے جبکہ مشرق میں یہ حد ایران کے پہاڑ مبارک سے متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ تک ایک لکیر پر ختم ہوتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








