کیا عمران ریاض صحافت چھوڑ کر سیاست میں آنے والے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو منٹ مرر

یوٹیوبر، صحافی اور تجزیہ کار عمران ریاض خان کے متعلق یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ وہ صحافت اور ولاگنگ چھوڑ کر سیاست کے میدان میں آ رہے ہیں۔

عمران ریاض خان کے متعلق یہ باتیں اس وقت ہو رہی تھیں جب وہ گزشتہ دنوں جیل میں تھے، اس دوران یہ اطلاعات سوشل میڈیا پر آنے لگیں کہ عمران ریاض خان جیل سے باہر آکر صحافت کا میدان بھی چھوڑ دیں گے اور سیاست کے میدان میں قدم رکھیں گے۔

تاہم جیل سے رہائی کے بعد اس حوالے سے اب عمران ریاض خان کی جانب سے وضاحت آگئی ہے، انہوں نے یہ وضاحت ایک ولاگ انٹرویو کے دوران اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کی ہے۔

انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا کہ آپ جب جیل میں تھے، تب یہ خبر گرم تھی کہ آپ رہائی کے بعد صحافت چھوڑ دیں گے اور سیاست کے میدان میں قدم رکھیں گے۔

سوال میں مزید بتایا گیا کہ کہا جا رہا تھا رہائی کے بعد عمران ریاض خان سینیٹ کا الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن بنیں گے، اس حوالے سے آپ کا کیا کہنا ہے؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران ریاض خان نے بتایا کہ ان کا سیاست میں آنے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں ہے، فی الحال میرا یہی فیصلہ ہے کہ میں صحافت ہی جاری رکھوں گا اور کبھی بھی سیاست کے میدان میں قدم نہیں رکھوں گا۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ حالات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے، اگرچہ فی الحال میرا یہی ارادہ ہے کہ مستقبل میں سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں مگر کیا پتا اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سبیل بنا دے کہ مجھے اپنا موجودہ فیصلہ بدلنا پڑے۔

سیاست میں آنے کے متعلق افواہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران ریاض نے بتایا کہ دراصل جب میں جیل میں تھا تو میرے کچھ ہمدرد دوستوں نے یہ بات کی تھی۔

عمران ریاض کے بقول میرے کچھ دوستوں نے یہ بات چلائی کہ صحافت میں رہتے ہوئے اس کیلئے مشکلات ہیں، اس لیے اب انہیں سیاست میں آنا چاہئے اور جو بات یہ صحافت میں رہ کر رہے ہیں، اسے زیادہ بہتر اور محفوظ ماحول میں پارلیمنٹ میں جاکر کریں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سیاست میں لانا میرے دوستوں کی خواہش ہے، میری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے دوست اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید میں سیاست میں آکر زیادہ بہتر انداز میں حق بات کہوں گا، اس لیے وہ میرے سیاست میں آنے کی بات کر رہے ہیں۔

Related Posts