کراچی کے حقوق پر آواز اٹھانا جرم؟ صحافی اور سول سوسائٹی کے اراکین سندھ حکومت کے نشانے پر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی سوشل میڈیا پر کراچی کے حقوق سے متعلق آواز اٹھانے والے صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان، کراچی کے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی آواز دبانے میں مبینہ طور پر سرگرم عمل ہے۔

شہر قائد میں دن بدن خراب ہوتی صورتحال پر شہریوں نے سوشل میڈیا پیپلز پارٹی کے 18 سالہ مسلسل حکومت پر تنقید کی تو پیپلز پارٹی کے حامل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے انہیں مختلف حوالوں سے دبایا جا رہا ہے۔

معروف ٹی وی اینکر وجیہ ثانی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق سندھ حکومت مبینہ طور پر ایسے ایکس اکاؤنٹس کی رپورٹنگ کر رہی ہے جو کراچی کی بدترین صورتحال پر تنقید کرتے ہیں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ سخت نوعیت کی آمریت کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس کی تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی جس نے آئین دیا ہے وہ آئینی آزادیوں کی مخالف نہیں ہو سکتی۔

معروف صحافی اعزاز سید نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے کارکنان کی جانب سے اینکر و شاعر وجیہ ثانی کو دھمکیوں سے متعلق دھمکیاں ملنے پر کہا کہ بعض سیاستدانوں اور ان کے حامیوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ جب ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جائے یا بری کارکردگی پر تنقید کی جائے وہ آپ کو مخالف سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کے بارے میں میرا بہت اچھا گمان رہا ہے مگر جسطرح وہ مبینہ طور پر الیکشن چوری کرکے اقتدار میں آئے اور جو پرفارمنس وہ دے رہے ہیں اس سے میرے گمان کو دھچکا لگا ۔نجانے وہ اسے ٹھیک کر پائیں گے یا نہیں ؟۔

اعزاز سید نے کہا کہ وجیہ ثانی جیسے صحافی و شاعر کو ایم کیوایم سے وابستہ کرنا مرتضی کی کمزوری اور بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ ان سے گذارش ہے کہ وہ صرف اپنے کام کے ذریعے ہی وجیہ اور دیگر کی رائے بدل سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایکس صارف صائم وضوی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن تنقید کرنے والے اکاؤنٹس کی رپورٹنگ میں بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں مگر اپنے اصل کام میں نہیں دیتے۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کی رپورٹ ہسٹری اس بات سے بھری ہوئی ہے کہ مختلف صارفین کو آن لائن سرگرمیوں میں دباؤ کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنا کام کر چکے ہیں اب سوچنے کی باری آپ کی ہے جس سے سوشل میڈیا پر جاری بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

اس معاملے پر سندھ حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث تیزی سے پھیل رہی ہے اور صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

Related Posts