صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی سوشل میڈیا پر کراچی کے حقوق سے متعلق آواز اٹھانے والے صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان، کراچی کے شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی آواز دبانے میں مبینہ طور پر سرگرم عمل ہے۔
شہر قائد میں دن بدن خراب ہوتی صورتحال پر شہریوں نے سوشل میڈیا پیپلز پارٹی کے 18 سالہ مسلسل حکومت پر تنقید کی تو پیپلز پارٹی کے حامل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے انہیں مختلف حوالوں سے دبایا جا رہا ہے۔
معروف ٹی وی اینکر وجیہ ثانی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق سندھ حکومت مبینہ طور پر ایسے ایکس اکاؤنٹس کی رپورٹنگ کر رہی ہے جو کراچی کی بدترین صورتحال پر تنقید کرتے ہیں۔
بے تحاشا شکایات موصول ہورہی ہیں کہ سندھ حکومت کراچی کے حالات کی شکایت کرنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو رپورٹ کررہی ہے۔ @BBhuttoZardari
اگر یہ شکایت درست ہے تو بدترین فاشزم ہے۔۔
بلاول اس کا نوٹس لیں اور تحقیقات کروائیں۔
آئین بنانے والے بھٹو کی جماعت آئینی آزادی کی دشمن نہیں ہوسکتی https://t.co/5DgtCBzI9X pic.twitter.com/6usRPo5NOV— Wajih Sani (@wajih_sani) April 10, 2026
اپنے پیغام میں انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ سخت نوعیت کی آمریت کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس کی تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی جس نے آئین دیا ہے وہ آئینی آزادیوں کی مخالف نہیں ہو سکتی۔
معروف صحافی اعزاز سید نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے کارکنان کی جانب سے اینکر و شاعر وجیہ ثانی کو دھمکیوں سے متعلق دھمکیاں ملنے پر کہا کہ بعض سیاستدانوں اور ان کے حامیوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ جب ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جائے یا بری کارکردگی پر تنقید کی جائے وہ آپ کو مخالف سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کریں گے ۔
بعض سیاستدانوں اور ان کے حامیوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ جب ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جائے یا بری کارکردگی پر تنقید کی جائے وہ آپ کو مخالف سیاسی جماعت سے جوڑنے کی کوشش کریں گے ۔
مرتضیٰ وہاب کے بارے میں میرا بہت اچھا گمان رہا ہے مگر جسطرح وہ مبینہ طور پر الیکشن… https://t.co/AChmM7Gosu
— Azaz Syed (@AzazSyed) April 6, 2026
انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کے بارے میں میرا بہت اچھا گمان رہا ہے مگر جسطرح وہ مبینہ طور پر الیکشن چوری کرکے اقتدار میں آئے اور جو پرفارمنس وہ دے رہے ہیں اس سے میرے گمان کو دھچکا لگا ۔نجانے وہ اسے ٹھیک کر پائیں گے یا نہیں ؟۔
اعزاز سید نے کہا کہ وجیہ ثانی جیسے صحافی و شاعر کو ایم کیوایم سے وابستہ کرنا مرتضی کی کمزوری اور بے بسی ظاہر کرتا ہے۔ ان سے گذارش ہے کہ وہ صرف اپنے کام کے ذریعے ہی وجیہ اور دیگر کی رائے بدل سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایکس صارف صائم وضوی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن تنقید کرنے والے اکاؤنٹس کی رپورٹنگ میں بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں مگر اپنے اصل کام میں نہیں دیتے۔ ان کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کی رپورٹ ہسٹری اس بات سے بھری ہوئی ہے کہ مختلف صارفین کو آن لائن سرگرمیوں میں دباؤ کا سامنا ہے۔
پیپلز پارٹی والے جتنی جان یہاں تنقید کرنے والے ہینڈلز کی رپورٹ کرنے میں لگا رہے ہیں۔ اس کی آدھی جان بھی کام کرنے پر لگا لیتے تو نوبت یہاں تک نا اتی۔ چھ مہینے کی ایکس رپورٹ ہسٹری بھری پڑی رنگ برنگے ازاربندھ والے دو دو روپے کے جیالے ایکٹوسٹ سے۔
چندا ہم اپنا کام کر چکے۔ سوچ دے دی
— Saim Rizvi (@sym_riz) April 10, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنا کام کر چکے ہیں اب سوچنے کی باری آپ کی ہے جس سے سوشل میڈیا پر جاری بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
اس معاملے پر سندھ حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث تیزی سے پھیل رہی ہے اور صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








