پاکستان میں ایل این جی ختم؟ سیکرٹری پٹرولیم کا ایل این جی سے متعلق چونکا دینے والا بیان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پٹرولیم سیکرٹری نے واضح کیا ہے کہ 14 اپریل 2026 کے بعد پاکستان میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) دستیاب نہیں ہوگی جس کے نتیجے میں بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے گا۔

یہ اعلان سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس کے دوران سامنے آیا جس کی صدارت سینیٹر منظر احمد نے کی۔ اجلاس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پٹرولیم سیکرٹری نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات بشمول ایل این جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم سپلائی کا تقریباً 70 فیصد مشرق وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے لیکن موجودہ حالات میں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کی وجہ سے سپلائی کا سلسلہ متاثر ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت $88 فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً $187 فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت $74 فی بیرل سے بڑھ کر $130 فی بیرل ہو گئی ہے جس کے اثرات ملک میں قیمتوں پر واضح ہیں۔

اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ نے سوال کیا کہ 7 مارچ سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیا تھیں اور اس کے بعد کتنی بڑھیں؟ اوگرا نے جواب دیا کہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 100 فیصد اور پٹرول کی قیمت تقریباً 70 فیصد بڑھ چکی ہے۔

پٹرولیم سیکرٹری نے یہ بھی بتایا کہ ملک کے موجودہ ذخائر میں خام تیل تقریباً 11 دن، ڈیزل 21 دن، پٹرول 27 دن، ایل پی جی 9 دن اور جیٹ فیول (JP-1) تقریباً 14 دن کے لیے کافی ہیں۔

Related Posts