آپریشن سربکف دوبارہ شروع ہونے جا رہا ہے؟ باجوڑ میں امن جرگہ اور عسکریت پسندوں کے مذاکرات ناکام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لوئی ماموند تحصیل میں مقامی عسکریت پسند کمانڈرز اور باجوڑ امن جرگہ کے درمیان عسکریت پسندوں کی افغانستان واپسی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے جس سے مقامی لوگوں میں آپریشن سربکف کے دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ابتدائی طور پر فریقین کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اس انسداد دہشت گردی آپریشن کو روک دیا گیا تھا تاکہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے تاہم امن مذاکرات کی ناکامی نے مقامی آبادی کو خوف اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق لوئی ماموند تحصیل کے 16 علاقوں سے متعدد خاندانوں نے ہفتے کے روز اپنے گھر بار چھوڑ کر ضلع کے پرامن علاقوں کی طرف ہجرت کی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آج (اتوار) کو مزید خاندانوں کے اپنے گھر چھوڑنے کا امکان ہے۔

باجوڑ جرگہ کے سربراہ صاحبزادہ ہارون رشید کے مطابق عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کچھ اہم مسائل پر شدید تعطل کی وجہ سے مطلوبہ نتائج کے بغیر ختم ہوگئے۔

صاحبزادہ ہارون رشید نے کہا کہ ہم نے (باجوڑ امن جرگہ کے اراکین) نے پوری دیانتداری اور لگن کے ساتھ عسکریت پسند رہنماؤں کو پرامن طور پر افغانستان واپسی کے لیے قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن بدقسمتی سے کچھ اہم مسائل پر تعطل کی وجہ سے ہم اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکے۔

Related Posts