پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے؟ حکومتی قرضے کے خوفناک اعداد و شمار سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

حکومت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں شیڈول بینکوں سے 1.192 ٹریلین روپے یعنی تقریباً 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے جب حکومت نے بینکوں سے 1.255 ٹریلین روپے کا خالص قرضہ واپس کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان حکومت کے مالی دباؤ کو واضح کرتا ہے کیونکہ مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا لیکن اس کے باوجود حکومت کو بھاری قرضہ لینا پڑا۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو نے اس عرصے میں 6.159 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیا جو ہدف 6.490 ٹریلین روپے سے تقریباً 331 ارب روپے کم ہے تاہم پچھلے سال کے مقابلے میں ریونیو میں تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا (پچھلے سال 5.618 ٹریلین روپے تھے)۔

بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کا رجحان جاری ہے کیونکہ حکومتی سیکیورٹیز کو کم خطرہ اور بہتر منافع حاصل ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی میں بینکوں نے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک بولیاں لگائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اخراجات میں اضافہ مسلسل جاری ہے جس کی وجہ سے ریونیو میں بہتری کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس اور بینکنگ سیکٹر کے رجحانات کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں اور ملکی معیشت میں بینکنگ فنانسنگ کے بڑھتے ہوئے انحصار کو ظاہر کرتے ہیں۔

Related Posts