پاکستان قدرتی وسائل کے اعتبار سے ایک زرخیز ملک ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بلوچستان سے لے کر پنجاب اور گلگت بلتستان تک زمین کے نیچے اربوں ڈالر مالیت کا سونا دفن ہے تاہم سیاسی عدم استحکام، سیکیورٹی خدشات اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ پیچیدہ معاہدوں کے باعث یہ معدنی دولت اب تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائی جا سکی۔
بلوچستان: سونے اور تانبے کا مرکز
بلوچستان کا ضلع چاغی پاکستان میں معدنی دولت کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ دنیا کے بڑے غیر ترقی یافتہ سونے اور تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے جہاں اندازوں کے مطابق 41.5 ملین اونس (1200 ٹن سے زائد) سونا موجود ہے۔ اس منصوبے پر کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کام کر رہی ہے اور توقع ہے کہ 2028 تک پیداوار شروع ہو جائے گی تاہم مقامی آبادی میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آیا اس دولت کا اصل فائدہ بلوچستان کے عوام کو ملے گا یا نہیں۔

اسی طرح سیندک منصوبے میں بھی سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں جہاں ایک چینی کمپنی کی جانب سے کان کنی جاری ہے۔ اگرچہ یہاں سے سالانہ بڑی مقدار میں سونا نکالا جا رہا ہے مگر پاکستان کے حصے اور مالی فوائد پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
چاغی کے دیگر علاقوں جن میں ٹانگ گھور شامل ہے میں بھی نئی معدنی دریافتیں سامنے آ رہی ہیں جہاں قومی سطح پر تلاش کا عمل جاری ہے اور مزید قیمتی ذخائر ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
پنجاب: دریائے سندھ کے کنارے سونے کی تلاش

پنجاب کے ضلع اٹک میں دریائے سندھ کی ریت سے سونا نکالنے کے امکانات پر بھی کام جاری ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہاں 32 سے 33 ٹن تک سونا موجود ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے پر پنجاب حکومت اور نیسپاک مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں جسے کامیاب قرار دیے جانے کی صورت میں صوبے کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا: شمالی علاقوں کا پوشیدہ خزانہ

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے کنارے چھوٹے پیمانے پر سونا روایتی طریقوں سے نکالا جاتا رہا ہے۔ حالیہ معدنی سرویز میں شمالی علاقوں کے کم از کم 10 بلاکس میں سونے، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے جس سے ان علاقوں میں بڑے منصوبوں کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
معاشی مواقع یا نئے خدشات؟
ماہرین کے مطابق اگر ان معدنی ذخائر کو مؤثر، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق استعمال کیا جائے تو پاکستان قرضوں کے بوجھ سے نکل سکتا ہے اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں تاہم ماحولیاتی اثرات، مقامی آبادی کے حقوق اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی شفافیت جیسے سنگین سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت پاکستان اس قیمتی خزانے کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کر پاتی ہے یا یہ دولت ایک بار پھر غیر ملکی مفادات کی نذر ہو جاتی ہے۔ قوم کی نظریں اس اہم اور فیصلہ کن معاملے پر مرکوز ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








