پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے گوجرہ میں ایک غیر معمولی صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب تھانہ سٹی نے اذان سے قبل لاؤڈ اسپیکر پر درود شریف پڑھنے پر امام مسجد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں وکلاء اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
امام مسجد کے خلاف مقدمہ خارج نہ کیے جانے پر سابق صدر بار ایسوسی ایشن گوجرہ توقیر اشرف خان ایڈووکیٹ نے ڈی ایس پی آفس کے سامنے واقع مسجد میں جا کر کھلے عام درود و سلام پڑھا اور ڈی ایس پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر درود پڑھنا جرم ہے تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے۔
ان کا مؤقف تھا کہ ملکی قوانین کے مطابق اذان سے پہلے یا بعد لاؤڈ اسپیکر پر درود شریف پڑھنے کی اجازت ہے اور امام مسجد کے خلاف مقدمہ بلاجواز ہے۔
دوسری جانب وکلاء نے بھی مقدمے کے اندراج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گوجرہ بار کی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ وکلاء نے تھانہ سٹی گوجرہ میں ڈی ایس پی اور مقدمہ درج کرانے والے مدعی کے خلاف کارروائی کی درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔
یہ معاملہ مذہبی آزادی، لاؤڈ اسپیکر کے قانون اور اس کی درست تشریح کے حوالے سے مقامی سطح پر ایک اہم بحث کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








