پاکستان کی ماضی کی معروف اداکارہ فضیلہ قاضی اور ٹی وی میزبان جویریہ سعود کے درمیان ہونے والی سخت لفظی تکرار نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فضیلہ قاضی نے رمضان ٹرانسمیشنز پر سخت تنقید کی جس پر جویریہ سعود نے بھرپور اور سخت ردعمل دیا۔
تنازع کی ابتدا کیسے ہوئی؟
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب فضیلہ قاضی نے انسٹاگرام پر ایک تنقیدی پوسٹ شیئر کی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے رمضان پروگراموں کے موجودہ مواد پر سوالات اٹھائے اور نشریات میں آنے والی تبدیلیوں پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ شیطان کو قید نہیں کیا گیا بلکہ اسے رمضان پروگراموں کی میزبانی سونپ دی گئی ہے۔
ان کے اس بیان کو رمضان ٹرانسمیشنز میں بڑھتے ہوئے تشہیری رجحان اور غیر سنجیدہ، تفریحی مواد پر تنقید قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اسے رمضان کی اصل روح سے انحراف کے تناظر میں دیکھا۔
جویریہ سعود کا ردعمل
جویریہ سعود جو ایکسپریس ٹی وی پر رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں، نے فضیلہ قاضی کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں نہ صرف جواب دیا بلکہ فضیلہ قاضی کی تنقید کو حسد پر مبنی قرار دیا۔
جویریہ سعود کا کہنا تھا کہ فضیلہ قاضی کو اس سال کسی بھی رمضان پروگرام کی میزبانی کا موقع نہیں ملا اسی وجہ سے وہ اس نوعیت کی تنقید کر رہی ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں فضیلہ قاضی کو شیطان کی خالہ بھی کہا، جو سوشل میڈیا پر خاصی بحث کا سبب بنا۔ اس بیان کے بعد صارفین کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
کچھ صارفین نے فضیلہ قاضی کی بات کو سنجیدہ اور باوقار تنقید قرار دیا اور کہا کہ رمضان نشریات میں روحانیت اور دینی پہلو کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بعض افراد نے جویریہ سعود کے ردعمل کو غیر مناسب اور سخت لہجہ قرار دیا خصوصاً رمضان جیسے مقدس مہینے میں اس طرح کے الفاظ کے استعمال پر اعتراض کیا۔
متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ مذہبی پروگراموں کا اصل مقصد عبادت، اصلاح اور روحانی تربیت ہونا چاہیے جبکہ کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جدید انداز اور تفریحی عناصر شامل کرنے سے ناظرین کی توجہ حاصل ہوتی ہے اور پروگراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
فضیلہ قاضی نے رمضان ٹرانسمیشنز میں تشہیری اور غیر سنجیدہ مواد پر اعتراض اٹھایا جبکہ جویریہ سعود نے اس تنقید کو ذاتی اور حسد پر مبنی قرار دیتے ہوئے سخت جواب دیا۔ اس تنازع نے سوشل میڈیا پر صارفین کو دو واضح گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک گروہ فضیلہ قاضی کی تنقید کی حمایت کر رہا ہے جبکہ دوسرا جویریہ سعود کے مؤقف کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








