ملک اندھیرے کی جانب بڑھنے لگا؟ بجلی بحران نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ملک میں توانائی کا توازن برقرار رکھنا ایک بار پھر چیلنج بن گیا ہے اور اس صورتحال نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اب عملی اقدامات کا تقاضا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

حکومت نے بجلی کی پیداوار میں کمی کو پورا کرنے اور صارفین پر اضافی مالی دباؤ سے بچنے کے لیے روزانہ تین گھنٹے تک لوڈشیڈنگ نافذ کر دی ہے۔ یہ کمی بنیادی طور پر آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجلی کے نظام کو اس وقت تقریباً 2000 سے 2500 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں ہائیڈرو پاور کی کم پیداوار اور آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کی محدود کارکردگی شامل ہیں۔

واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 20,200 کیوسک اور اخراج 8,000 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ اسی طرح منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 29,100 کیوسک جبکہ اخراج بھی 8,000 کیوسک رہا۔ تربیلا میں پانی کی موجودہ سطح 1,465.62 فٹ ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ سطح 1,550 فٹ اور قابل استعمال ذخیرہ 1.526 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا میں پانی کی سطح 1,156.90 فٹ ریکارڈ کی گئی جہاں زیادہ سے زیادہ سطح 1,242 فٹ اور ذخیرہ 1.989 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

دوسری جانب فرنس آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی بجلی کی لاگت بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ فروری 2026 میں اس کی قیمت تقریباً 200,000 روپے فی ٹن تھی جو حالیہ جنگ بندی سے قبل بڑھ کر تقریباً 400,000 روپے فی ٹن تک جا پہنچی جس سے بجلی کی پیداوار مہنگی ہو گئی۔

اسی تناظر میں بجلی صارفین کو مارچ 2026 کے بلوں میں فی یونٹ 2 روپے سے زائد کا اضافی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مہنگے فرنس آئل پر انحصار اور آر ایل این جی سے کم بجلی پیدا ہونا ہے۔

Related Posts