کراچی کے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ شہر میں شدید اسموگ چھا گئی ہے اور ہوا کا معیار (Air Quality Index) 225 تک پہنچ گیا ہے جو کہ انتہائی خطرناک زمرے میں آتا ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتِ حال خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی ائیر کوالٹی ویب سائٹس کے مطابق کراچی اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔ ہوا میں موجود PM2.5 کے چھوٹے ذرات، صنعتی دھواں، کوڑا جلانا، گاڑیوں کا دھواں اور تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی گرد نے مل کر شہر کو دھند اور سموگ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

صحت کو سنگین خطرات
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس آلودگی کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بچوں میں نمونیا اور سینے کے انفیکشن کے کیسز بڑھ گئے ہیں اور آنکھوں میں جلن، گلے کی خراش اور سر درد عام شکایات بن گئی ہیں
شہریوں کو ہدایت
ماہرینِ صحت نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلیں، N95 یا اچھے معیار کا ماسک ضرور پہنیں۔ بچوں اور بوڑھوں کو مکمل طور پر گھر میں رکھیں۔ دروازے کھڑکیاں بند رکھیں اور ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کریں
موسم سرما شروع ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا آلودگی کو زمین کے قریب روک لیتی ہے جس سے سموگ کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر کوڑا جلانے، صنعتی دھوئیں اور تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے۔
فی الحال کراچی کی ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہی، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال مزید خوفناک ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








