وزیر اعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
نجی چینل جیو کے مطابق وفاقی حکومت کی مولانا فضل الرحمان کو انگیج کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ایک ہفتے میں مولانا فضل الرحمان سے دو بڑی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ صدر زرداری نے گزشتہ ہفتے کے روز جبکہ وزیر اعظم نے آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کو درپیش چیلنجز میں مولانا فضل الرحمان سے مدد اور حمایت طلب کر لی۔ ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کا مقصد مولانا فضل الرحمان کی ناراضی دور کرنا اور انہیں منانا ہے، صدر اور وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کہا مولانا فضل الرحمان ایک جمہوری سوچ رکھنے والے زیرک سیاستدان ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح جمہوری سیاسی سوچ کے ساتھ آگے چلیں، وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے مولانا فضل الرحمان انتشاری ٹولے کی سیاست کو مسترد کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پوری کوشش کرے گی مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور ہوں۔ ان کوششوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کسی بھی طرح مولانا فضل الرحمن کو پی ٹی آئی کی طرف جانے سے روکا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








