امریکہ نے پاکستان میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے ایک تازہ سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ پاکستان میں موجود یا آنے والے امریکی شہری زیادہ محتاط رہیں۔ یہ پیش رفت اسلام آباد میں ترلائی کلاں خودکش دھماکے کے بعد سامنے آئی ہے جس نے ملک میں سلامتی کے ماحول پر سوالات پیدا کر دئیے ہیں۔
نئی ایڈوائزری میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی شہری عوامی اجتماعات سے دور رہیں، اپنے ذاتی حفاظتی منصوبے کا جائزہ لیں اور مقامی میڈیا کے ذریعے حالات سے مسلسل باخبر رہیں۔ ایڈوائزری میں یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو ذاتی سیکیورٹی کے مربوط انتظامات پہلے سے کیے جائیں۔ خاص طور پر ان جگہوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے جہاں لوگوں کا اجتماع زیادہ ہوتا ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ عوامی اجتماعات، عبادت گاہیں، مارکیٹس، تعلیمی ادارے، اسپتال، ہوائی اڈے، فوجی تنصیبات اور سرکاری عمارتیں ممکنہ خطرات کے زمرے میں شامل ہیں جہاں دہشت گرد بغیر کسی پیشگی انتباہ کے حملہ کر سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں، خاص طور پر اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات بہتر ہیں اور سیکیورٹی فورسز ہنگامی صورت حال میں فوری رد عمل دے سکتی ہیں تاہم داخلی سیکیورٹی صورتحال اکثر بدلتی رہتی ہے جس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں سیکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر امریکی شہریوں کے لیے احتیاطی سفر ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جن میں دہشت گردی اور مسلح تصادم کے خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








