تھرز ڈے مرڈر کلب: بزرگ شہریوں کی دلچسپ کہانی اب نیٹ فلکس پر دستیاب

تازہ ترین

تازہ ترین

Is ‘The Thursday Murder Club’ based on a book?
ONLINE

لاس اینجلس: کرائم اور کامیڈی سے بھرپور فلم تھرز ڈے مرڈر کلب نے ریلیز کے بعد ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کر لی ہے۔

یہ فلم معروف ہدایت کار کرس کولمبس نے بنائی ہے جس میں ایک ریٹائرمنٹ ہوم میں رہنے والے بزرگ شہری ہر ہفتے اکٹھے ہو کر پرانے حل نہ ہونے والے قتل کے مقدمات کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کہانی کے مرکزی کرداروں میں الزبتھ، رون، ابراہیم اور جوائس شامل ہیں، جنہیں بالترتیب ہیلن میرن، پیئرس بروسنن، بین کنگزلی اور سیلیا اِمری نے ادا کیا ہے۔

ان کرداروں کی زندگی بظاہر عام ریٹائرڈ افراد جیسی نظر آتی ہے لیکن ان کا شوق انہیں ایک پیچیدہ قتل کیس کی طرف لے جاتا ہے جسے حل کرنے کے لیے وہ اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

نیٹ فلکس کے مطابق ریٹائرمنٹ ہوم عموماً سکون، آرام اور فرصت کے دنوں کے لیے سمجھے جاتے ہیں لیکن اس فلم میں دکھائے گئے کردار نہ صرف اپنی بوریت کو ختم کرتے ہیں بلکہ ایک پراسرار اور سنسنی خیز قتل کیس میں الجھ جاتے ہیں۔

فلم کے ٹریلر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ غیر متوقع تفتیش کار نہ صرف اپنی ذہانت بلکہ دوستی اور ٹیم ورک کے ذریعے ایک منفرد کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

 

فلم میں کامیڈی اور سنجیدہ مناظر کا ایسا امتزاج دکھایا گیا ہے جو ناظرین کو ایک لمحے ہنسنے اور دوسرے لمحے تجسس میں ڈال دیتا ہے۔ اداکاروں کی بہترین کارکردگی نے فلم کو ایک یادگار انداز بخشا ہے۔

اس فلم کے مرکزی کاسٹ میں ہیلن میرن، پیئرس بروسنن، بین کنگزلی اور سیلیا اِمری کے ساتھ ناؤمی ایکی، ڈینیئل میس، ہنری لائیڈ ہیوز، ٹام ایلس، جوناتھن پرائس، ڈیوڈ ٹیننٹ، پال فری مین، جیوف بیل، رچرڈ ای گرانٹ اور اِن گرڈ اولیور جیسے نامور اداکار شامل ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ تھرز ڈے مرڈر کلب محض فلمی تخیل پر مبنی نہیں بلکہ ایک کتاب سے ماخوذ ہے۔ یہ کہانی 2020 میں مشہور برطانوی مصنف رچرڈ اوسمن کے پہلے ناول تھرز ڈے مرڈر کلب پر مبنی ہے۔

یہ ان کی مقبول ترین سیریز کا آغاز تھا جس کے بعد مزید حصے بھی شائع ہوئے جن میں دی مین ہو ڈائیڈ ٹوائس، دی بلیٹ دیٹ مسڈ اور دی لاسٹ ڈیوِل ٹو ڈائی شامل ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کتاب دی امپوسیبل فارچون رواں سال کے آخر تک منظر عام پر آنے والی ہے۔

یہ فلم ایک دلچسپ امتزاج ہے جس میں مزاح، جذبات اور سنسنی خیزی شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے فلمی ناقدین اور شائقین دونوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

Related Posts