ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں جاری ایبولا کے پھیلاؤ نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 131 تک پہنچ گئی ہے۔ محکمہ صحت نے منگل کے روز تصدیق کی کہ کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور اسے تیزی سے پھیلتا ہوا خطرناک بحران قرار دیا ہے۔
کانگو کے صحت حکام کے مطابق اب تک 131 اموات اور 513 مشتبہ کیسز اس وبا سے منسلک کیے جا چکے ہیں۔ بی بی سی کو دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ بیماری اب صرف محدود علاقوں تک نہیں رہی بلکہ مختلف اور وسیع خطوں میں رپورٹ ہو رہی ہے۔
جنیوا میں جاری ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ وہ اس وبا کے پھیلاؤ اور رفتار کو دیکھ کر انتہائی فکر مند ہیں۔ انکے مطابق کیسز اب یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا اور کانگو کے شہر گوما جیسے بڑے شہری علاقوں تک پہنچ چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران اس ایبولا پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسی روز امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) کے ساتش پلائی نے بتایا کہ ایک امریکی ڈاکٹر، جو کانگو میں کام کے دوران وائرس سے متاثر ہوا تھا، ایبولا کا شکار پایا گیا ہے اور اسے علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جا رہا ہے۔ مزید چھ امریکیوں کو بھی علاج یا نگرانی کیلئے نکالنے کا عمل جاری ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق امریکی عوام کے لیے فوری خطرہ اب بھی کم درجے کا ہے۔
امریکی محکمہ صحت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نئی سفری پابندیوں کا اعلان کیا جس کے تحت متاثرہ علاقوں سے آنے والوں کی سخت اسکریننگ کی جائے گی جبکہ گزشتہ 21 دنوں میں یوگنڈا، کانگو یا جنوبی سوڈان کا سفر کرنے والے غیر امریکی پاسپورٹ ہولڈرز پر داخلے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کے سربراہ ژاں کاسیا کے مطابق اب تک 100 سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور کم از کم 395 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کئی امریکی شہریوں کو کانگو میں کام کے دوران ہائی رسک ایکسپوژر کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں سے ایک میں بیماری کی علامات بھی ظاہر ہوئی ہیں۔
سی ڈی سی نے بھی کہا کہ وہ کانگو سے متاثرہ چند امریکی شہریوں کے انخلاء پر کام کر رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے اس وبا کو ایک غیر معمولی صورتحال قرار دیا ہے جو کئی ممالک کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور جس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ ردعمل کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسی روز ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ کم از کم 80 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک مریض بھی شامل ہے جو یوگنڈا میں انتقال کر گیا تھا۔
لیبارٹری ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ یہ وبا ایبولا کے بنڈی بگیو (Bundibugyo) اسٹرین سے پھیلی ہے جس کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین موجود نہیں۔ یہ وہی وائرس ہے جس کی 2007 کی وبا میں اموات کی شرح تقریباً 32 فیصد رہی تھی۔
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے کانگو کے Ituri صوبے میں اس وبا کی تصدیق کی جہاں 246 افراد متاثر اور 65 ہلاک ہو چکے تھے۔ حکام نے خبردار کیا کہ علاقے میں بار بار سفر، محدود طبی وسائل اور رابطوں کا سراغ لگانے میں مشکلات صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں۔
وبا کی ابتدا کب ہوئی؟
صحت حکام کے مطابق پہلا کیس ڈبلیو ایچ او کی باضابطہ مداخلت سے چند ہفتے پہلے سامنے آیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی مریض ایک طبی کارکن تھا جس کی علامات اپریل کے آخر میں ظاہر ہوئیں تاہم تاریخ کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے کچھ ادارے 24 اپریل جبکہ کچھ 27 اپریل کو پہلی موت قرار دیتے ہیں۔ ابتدا میں کیسز کو عام ایبولا اسٹرین سمجھ کر ٹیسٹ کیا گیا جسکے باعث ابتدائی نتائج منفی آئے۔ بعد ازاں دو ہفتے کے اندر معلوم ہوا کہ یہ نایاب بنڈی بگیو ویرینٹ ہے۔
پس منظر
یہ کانگو میں گزشتہ 50 برسوں کے دوران ایبولا کی 17ویں لہر ہے تاہم یہ حالیہ چند ماہ بعد سامنے آئی ہے جب ایک اور وبا دسمبر میں ختم قرار دی گئی تھی جس میں 45 افراد جان سے گئے تھے۔ ماضی کی زیادہ تر وبائیں ایبولا-زائر اسٹرین سے تھیں جن کے لیے ویکسین موجود ہے مگر موجودہ بنڈی بگیو اسٹرین کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج نہیں۔ مریضوں کو صرف معاون علاج دیا جاتا ہے جیسے بلڈ پریشر کو برقرار رکھنا، قے اور دست کو کنٹرول کرنا اور بخار و درد میں کمی لانا۔
دلچسپ حقیقت
2014 میں ایبولا امریکہ تک بھی پہنچا تھا جب عالمی وبا کے دوران 11 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر مریض مغربی افریقہ سے علاج کے لیے امریکہ منتقل کیے گئے تھے جبکہ دو نرسیں ایسے مریض کے علاج کے دوران متاثر ہوئیں جو ڈلاس میں تھا۔ دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ باقی صحت یاب ہو گئے۔
مزید تناظر
ورلڈ بینک اور ڈبلیو ایچ او کے تحت قائم عالمی تیاری بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اب بھی کسی نئی وبا کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود تحقیق اور تیاری کی رفتار سست ہے اور آئندہ وبائیں ایک ایسے عالمی نظام میں آئیں گی جو پہلے سے زیادہ تقسیم شدہ، قرضوں میں ڈوبا ہوا اور کمزور ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








