خودکش بمبار کیسے آن لائن بائیک سروس کے ذریعے اسلام آباد کچہری پہنچا، چونکا دینے والے انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

وفاقی دارالحکومت میں خودکش حملے کی تحقیقات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے خودکش بمبار کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے عدالت کے احاطے تک پہنچنے کے لیے آن لائن بائیک سروس کا استعمال کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمبار 200 روپے کرایہ ادا کرکے آن لائن بائیک سروس کے ذریعے عدالت پہنچا، جبکہ اسے لانے والے رائیڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور گولڑہ موڑ سے جی-11 کی عدالت تک ایک موٹر سائیکل پر آیا، جو ایک آن لائن رائیڈ ہیلنگ ایپ کے ذریعے بُک کی گئی تھی۔ رائیڈر نے مبینہ طور پر 200 روپے وصول کیے۔

پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ بمبار گولڑہ کیسے پہنچا تھا، اس کے بعد اُس نے بائیک سروس بُک کی۔

یاد رہے کہ حالیہ خودکش دھماکے میں اسلام آباد کی عدالت کے باہر 12 افراد شہید اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ ضلعی عدالت کے داخلی دروازے کے قریب ہوا، جہاں دن کے وقت وکلاء، مقدمات کے فریقین اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس حملے اور اسی روز افغانستان کی سرحد کے قریب ایک کیڈٹ کالج پر ہونے والے دوسرے حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا ہے۔

یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (Anti-Terrorism Act) اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔

Related Posts