اسلام آباد خود کش دھماکا! کون ملوث؟ اہم ترین معلومات سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ رائٹرز)

اسلام آباد کی ضلعی کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد وفاقی وزرا نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق خودکش حملہ آور کچہری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور تقریباً 10 سے 15 منٹ تک وہاں کھڑا رہا۔ اس دوران وہ موقع دیکھ کر اندر جانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تاہم پولیس کی گاڑی قریب آنے پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ سب سے پہلے حملہ آور کی شناخت کی جائے گی اور کچہری حملے میں ملوث تمام کرداروں کو سامنے لایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک روز قبل وانا میں بھی ایک گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے انٹری پوائنٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ وانا میں علاقے کی کلیئرنس کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق، وانا حملے میں افغانستان کا کردار سامنے آیا ہے اور اس واقعے سے متعلق افغانستان کے اندر رابطے بھی ہوتے رہے۔

دوسری جانب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد کچہری حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں لکھا کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاک فوج صرف سرحدی یا دور دراز علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے، تو اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ اس غلط فہمی کو ختم کر دینا چاہیے۔ یہ جنگ پورے ملک کی جنگ ہے جس میں پاک فوج روزانہ قربانیاں دے رہی ہے تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ملے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں کابل کے حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی امید رکھنا بے کار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کابل کے حکمران چاہیں تو پاکستان میں دہشت گردی روک سکتے ہیں، لیکن اسلام آباد میں حملہ دراصل کابل کی جانب سے ایک پیغام ہے، جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور 27 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ مبینہ حملہ آور کا سر موقع سے برآمد کر لیا گیا ہے۔

Related Posts