پشاور: ملک میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ، جامعات بھی محفوظ نہ رہیں، اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ مرد اساتذہ بھی لڑکیوں کو ہراساں کرنے لگے، طالبات نے احتجاج شروع کردیا۔
مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی طالبات نے ہراساں کرنے کے خلاف احمد فراز بلاک میں جمع ہوکرشدید نعرے بازی کی اور وائس چانسلر کے آفس کی طرف مارچ کیا۔
طالبات کا کہنا تھا کہ نہ صرف طالب علم لڑکے بلکہ مرد اساتذہ بھی قابل اعتراض جملے کستے ہیں اور کیمپس میں راستہ روکتے ہیں،طالبات نے اس عمل میں ملوث اساتذہ اور لڑکوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ امتحانات کے دوران پرچوں کی چیکنگ کے دوران بھی طالبات کو ہراساں کیا جاتا رہا اور پاس کرنے کیلئے غیر اخلاقی مطالبات کئے جاتے رہے لیکن شکایات کے باوجود انتظامیہ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
طالبات کا کہنا ہے کہ اگر ہراساں کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ بڑھایا جائے گا اور مختلف کیمپس میں سیمینارز اور واکس کا اہتمام کرکے گھناؤنے چہروں کو بے نقاب کیا جائیگا۔