گھوٹکی: باپ کی طرف سے قرض کی واپسی میں ناکامی پر سود خور نے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں8 سال کی بچی کواغواء کرکے شادی کرلی۔
متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بچی کے والد فدا حسین لغاری نے چار ماہ عطااللہ کولاچی سے بھاری شرح سود پر 10 لاکھ روپے بطور قرض حاصل کیے تھے۔
اندرون سندھ قرض کے معاملے میں شرح سود 50 فیصد تک بھی رکھی جاتی ہے، لین دین کا تنازعہ بڑھنے پر قرض دہندہ نے مقروض سے مزید 40 لاکھ ادا کرنیکا مطالبہ کیا۔
فدا حسین کی طرف سے رقم واپس نہ کرنے پر عطاء اللہ کولاچی نے اس کی 8 سالہ بیٹی کو اغواء کرلیا اور بعد میں شادی کرلی۔
بچی کے اہل خانہ نے اغواء کیخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے بچی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے تاہم پولیس تاحال بچی کو بازیاب نہیں کرواسکی۔
چھوٹے گاؤں دیہاتوں میں سود کا کاروبار کرنیوالے افراد اسی طرح لوگوں کوقرض دیکر بعض اوقات ان کی زمینیں ہتھیا لیتے ہیں اور اکثر بیٹیوں کو رقم کے بدلے اٹھا کر لیجاتے ہیں۔