ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، دونوں جانب سے شدید حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ تمام مقاصد حاصل ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے اصفہان اور قم میں حملے کیے جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ساتھ ہی ایران نے 22 افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق انہوں نے ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس پر چھاپے مارے اور پاسداران انقلاب کے ڈرون کمانڈر امین پور جودخی کو ہلاک کر دیا جو سینکڑوں ڈرون حملوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
جوابی کارروائی میں ایران نے تل ابیب، بین گوریون ایئرپورٹ، اور دیگر فوجی مراکز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ شاہد 136 خودکش ڈرونز اور ٹھوس و مائع ایندھن والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، اور اسرائیلی دفاعی نظام انہیں روکنے میں ناکام رہا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں میں ان کی فوج نے ایران کے 30 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران اور 14 جوہری سائنسدانوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا ہے، جن میں جنرل محمد باقری اور حسین سلامی جیسے اہم کمانڈر شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








