اسرائیل نے غزہ پر بمباری کرکے مزید 103 فلسطینیوں کو شہید کردیا، صیہونی فوج کے تازہ حملوں میں رفح اور خان یونس کے ہسپتال اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے مختلف علاقوں میں عام شہریوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا۔ قابض اسرائیلی حکومت کو اقوامِ متحدہ میں امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جس نے گزشتہ روز جنگ بندی کیلئے سلامتی کونسل کی قرارداد تیسری بار ویٹو کی۔
ووٹنگ سے قبل امریکا نے اسرائیل غزہ تنازعے کے حل کیلئیے متبادل ڈرافٹ پیش کیا جس میں سیز فائر کے ذکر کے باوجود فوری جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ 137 روز سے جاری جنگ میں 29 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
سلامتی کونسل میں چین اور روس کے ساتھ ساتھ امریکا کے اتحادی ممالک مالٹا، سلووینیا اور فرانس نے بھی امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے کے گھناؤنے اقدام پر کڑی تنقید کی۔ سلووینیا نے قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر اپنی پوزیشن بھی واضح کی۔
سلووینیا کے نمائندے سیمیول زوگر کا سلامتی کونسل اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ ہم قرارداد کے حق میں اس لیے ہیں تاکہ غزہ میں شہریوں کا قتلِ عام روکا جائے۔ فلسطینی ایک عام انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








