اسرائیل نے جنگ بند کرنے کیلئے بڑی شرط رکھ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو روئٹرز

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل حماس کی اس درخواست پر غور کر رہا ہے کہ اگر وہ تحریک کے اعلیٰ عہدیداروں کو غزہ کی پٹی سے باہر جلا وطن کر دیتے ہیں تو انہیں قتل نہ کیا جائے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ یہ تجویز ایک معاہدے کی صورت میں پیش کر رہی ہے جس میں اس کے بدلے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے، تمام مغویوں کی رہائی، فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء شامل ہے۔

العربیہ کے مطابق یہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کی واپسی ، تمام مغوی افراد کی رہائی اور پٹی سے فوجی دستوں کے انخلاء کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایک تجویز ہے جس پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے چھ ہفتے کی جنگ بندی کے بدلے 40 یرغمالیوں کو رہا کرنے کے معاہدے کے اگلے مرحلے کے حصے کے طور پر اس تجویز کو آگے بڑھایا ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت ایک پیشکش پر غور کرہی ہے۔ جس میں “جلا وطن ہونے والے اعلیٰ حکام پر حملہ نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہے”۔

قبل ازیں موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، شن بیٹ کے سربراہ رونن بار اور اسرائیلی فوج کے مندوب نطزان ایلون قطری دار الحکومت پہنچے۔ تینوں نے گذشتہ رات ثالثوں کے ساتھ اپنی ملاقاتیں شروع کیں۔ اس تجویز پرآج غور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی مسودہ قرارداد پر ووٹنگ جس میں غزہ میں “فوری” جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسے پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔

جمعہ کے روز روس اور چین نے سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی مسودہ قرارداد کو مسترد کر دیا جس میں واشنگٹن نے پہلی بار حماس کے حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں زیر حراست قیدیوں کی رہائی سے منسلک غزہ میں “فوری” جنگ بندی کی حمایت کی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے اتحادی امریکہ نے تین بار اپنے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے کونسل میں جنگ بندی کے مطالبے کی قراردادوں کے مسودے کو مسترد کر دیا ہے۔

Related Posts