اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج 1948 سے نہتے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملے کیے گئے، جبکہ معصوم فلسطینی عوام پر اسرائیلی فضائیہ مسلسل وحشیانہ بمباری کر رہی ہے۔
غزہ اور فلسطین میں اسرائیلی فوج کی جانب سے وحشیانہ بمباری کی مذمت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ میں نہتے نمازیوں پر حملے کیے گئے اور دمشق کے دروازے پر ظلم کیا گیا، اسرائیلی فضائیہ نے جس طرح وحشیانہ بمباری کی اور سیکڑوں گھر تباہ و برباد کردیے اس کی مثال نہیں ملتی۔
مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ ماضی میں بھی اسرائیل کی حکومت اور فوج نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھاتی رہی ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ مگر اس مرتبہ مشرقی یروشلم میں انتہا پسند یہودیوں نے مارچ کیا اور ‘عربوں کی موت’ کے دن رات نعرے لگاتے رہے اور پوری دنیا نے یہ دلخراش مناظر دیکھے۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ ترین ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں نسلی امتیاز جیسے جرائم میں ملوث ہے اور کم و بیش اسی طرح کی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب ورطہ حیرت میں چلے گئے جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان آیا کہ آرٹیکل 370 بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اس طرح کا بیان دیں گے جس نے ہمارے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مقاصد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دنیا سے کوئی بھی یہودی خاندان یا فرد اسرائیل آ کر بستا ہے تو اسے وہاں زمین کا مالک بنایا جاتا ہے، اسی سرزمین پر فلسطینیوں کے آباؤ اجداد صدیوں سے رہ رہے ہیں لیکن ان کو ان کے گھروں سے نکال کر غلام بنایا جاتا ہے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ 1948 سے اب تک 60 سے 70 لاکھ فلسطینی ان کو اپنے گھروں سے بے گھر کیا گیا اور دنیا کے مختلف کونوں میں وہ خیمہ زن اور پناہ گزیں ہیں جبکہ دوسری اور تیسری نسل اس بدترین ظلم کا شکار ہے۔
انہوں نے وزیر خارجہ سے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر لابنگ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں جہاں بھی ممکن ہو وہ اس حوالے سے آگاہی بیدار کریں کہ اسرائیل اور بھارت کے ناپاک عزائم ہیں، دونوں میں بے پناہ مماثلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اب انسٹاگرام صارفین ڈیسک ٹاپ سے پوسٹ شیئر کرسکیں گے، ایلیس سینڈرو پلوزی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








