قطر میں اسرائیلی قاتلانہ حملہ ناکام، اعلیٰ حماس وفد محفوظ

تازہ ترین

تازہ ترین

دوحہ کے علاقہ قطارہ میں حملے کے مناظر، فوٹو عرب میڈیا

فلسطینی تحریکِ مزاحمت کے ایک اعلیٰ ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک کا وفد، جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے تھے، آج منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی قاتلانہ حملے سے بال بال بچ گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب وفد اپنی نشست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے دیے گئے تازہ ترین منصوبے پر غور کر رہا تھا۔ حملے کے نتیجے میں شہر بھر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور آسمان پر دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایک سخت بیان میں اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں، جس نے دوحہ میں فلسطینی تحریکِ مزاحمت کے سیاسی دفتر کے متعدد ارکان کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا۔

قطری وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ مجرمانہ جارحیت تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قطری شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ قطر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی بھی حملے یا اسرائیلی لاپروا رویے کو برداشت نہیں کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فضائیہ نے دقیق کارروائی کے ذریعے فلسطینی تحریکِ مزاحمت کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے۔

صہیونی فوج کے مطابق یہ کارروائی بری فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے شاباک کے ساتھ مشترکہ آپریشن تھا اور ان افراد کو ہدف بنایا گیا جو برسوں سے تحریک کی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
اسرائیلی چینل 14 نے دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ میں خلیل الحیہ اور زاہر جبارین سمیت متعدد رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چینل 12 کے مطابق خالد مشعل کو بھی اس حملے کا ہدف بنایا گیا۔

چینل 14 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ فوج اس قاتلانہ حملے کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے اور کارروائی لڑاکا طیاروں کے ذریعے کی گئی۔

Related Posts