آج ایشیا کپ کا رنگا رنگ میلہ شروع ہوگیا ہے۔ کرکٹ کا کوئی عالمی ایونٹ ہو تو پاکستان اور بھارت کا مقابلہ ہمیشہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ ایسے میں بھارت کا ایک مشہور اشتہار بار بار یاد آتا ہے: موقع موقع ۔
یہ دلچسپ اشتہار بیشک پاکستان پر طنز کے تیر برساتا ہے، مگر اپنی تخلیق اور انداز کے باعث ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
دوستو! جہاں بات پاکستانیوں کی ہو، وہاں ہم ہر حال میں کوئی نہ کوئی موقع ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ جیسے کہ اب حالیہ سیلاب بھی ہمارے لیے ایک موقع بن گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکنا، ٹالنا یا ان سے بچنا ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی آسان نہیں، تو پاکستان تو خیر کسی گنتی میں نہیں آتا لیکن یہاں آتا ہے تو موقع ! جی ہاں، ہمارے لیے قدرتی آفات بھی موقع کی مانند ہیں۔
پاکستان ہر سال کسی نہ کسی آفت کا شکار ہوتا ہے، مگر مجال ہے کہ ہم نے کبھی ان سے سبق سیکھا ہو۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے حکمران دعائیں مانگتے ہوں یا اللہ! پچھلوں کو تو کئی آفات ملیں، ہمیں بھی کوئی آفت دے دے تاکہ ہمارے لیے موقع پیدا ہو۔
یہ سچ ہے کہ جب زیادہ بارش آتی ہے تو زیادہ پانی بھی آتا ہے، اور ساتھ ہی لاتا ہے موقع ۔ دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے کا موقع، امداد کے نام پر بیرونی اکاؤنٹس بھرنے کا موقع۔
پھر معمولی سی دو، تین سو روپے کی جالی کو مچھر دانی کا نام دے کر ہزاروں میں فروخت کرنے کا موقع، گندم چھپا کر مہنگی کرنے کا موقع، ناقص آٹے کو بھاری داموں بیچنے کا موقع، نلکوں کا پانی بوتلوں میں بھر کر متاثرین کو بیچنے کا موقع۔
یہی نہیں، این جی اوز کو بھی امدادی کاموں کے بہانے اپنی دکانیں چمکانے کا موقع ملتا ہے۔ ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبر عوام کو بیوقوف بنا کر ڈالرز کمانے لگتے ہیں۔ کھانے کے نام پر کھچڑی نما چاول کو بریانی بنا کر بیچنے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے۔
غیر معروف این جی اوز کے کرتا دھرتا متاثرین کے ساتھ تصویریں کھنچواتے ہیں اور پھر انہی تصویروں کو بیرون ملک بھیج کر ڈالرز بٹورتے ہیں۔ موقع پرستوں کو چار چھ تھیلیاں بریانی بانٹ کر اپنی ہمدردی کے اشتہار بنانے کا موقع ملتا ہے۔
پاکستانی قوم موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی کیونکہ یہی تو ہمارا اصل ذریعہ معاش ہے۔ سیلاب آئے یا کورونا، ہم ہر قدرتی آفت کو سیکھنے کے نہیں بلکہ کمانے کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایمبولینس سروس کے نام پر خدمت کے دعوے کرنے والی این جی اوز کا حال یہ ہے کہ لاشیں اٹھانے پر بھی جھگڑے ہوتے ہیں کیونکہ مقصد خدمت نہیں بلکہ اپنی خدمات دکھا کر پیسے کمانے کا موقع ہوتا ہے۔
تو اس ایشیا کپ میں اگر پاک بھارت میچ کے حوالے سے موقع موقع والا اشتہار نہ بھی دیکھیں، تو فکر نہ کریں۔ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہر طرف مدد کا ڈھونگ رچانے والے اداکار ضرور نظر آئیں گے لیکن ان کے دل ہی جانتے ہیں کہ یہ موقع انہیں کتنی قبول دعاؤں کے بعد نصیب ہوا ہے۔
اگر آپ متاثرین کے نام پر حکمرانوں، این جی اوز یا مذہبی و سیاسی تنظیموں کو امداد کی اپیلیں کرتے، تصویریں بناتے دیکھیں تو ان پر اعتراض نہ کریں۔ کیونکہ قدرت نے ایک بار پھر انہیں کمانے کا عطا کیا ہے موقع ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں