غزہ کی سب سے کم عمر انفلوئنسر، 11 سالہ یقین حماد، اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئی, یقین حماد نہ صرف مقامی فلاحی تنظیم کی سب سے کم عمر رضا کار تھی، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اپنی ویڈیوز کے ذریعے جنگ زدہ بچوں کے لیے امید کی کرن بن چکی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے دیر البلح میں اس کے گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں یقین حماد ملبے تلے دب کر شہید ہو گئی۔
یقین اپنے بڑے بھائی محمد حماد کے ساتھ امدادی مہمات میں شریک ہوتی تھی، جہاں وہ غزہ کے متاثرہ خاندانوں میں خوراک، کپڑے اور کھلونے تقسیم کرتے تھے۔
فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یقین حماد ناصرف معصوم بچی تھی بلکہ جنگ زدہ بچوں کے لیے امید کی علامت بن چکی تھی لیکن بے حس فوج نے غزہ کی امیدیں اور ننھی سے روشینی بھی چھین لی۔
یقین کی شہادت نے فلسطین اور سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے چاہنے والوں نے ایک ایسی بچی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اپنی کمسنی کے باوجود ایک بڑا پیغام دے رہی تھی۔
یقین کی شہادت ایک اور یاد دہانی ہے کہ غزہ میں جنگ کا شکار ہونے والے معصوم بچے صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ وہ زندہ انسان ہیں جن کی زندگیوں کا خواب اور امیدیں چھینی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








