قطر میں جاری فٹ بال ورلڈ کے دوران اسرائیلی نیوز چینلز کو عوامی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔
چند برسوں کے دوران یو اے ای سمیت کئی عرب ممالک اسرائیل سے کافی قریب آگئے ہیں لیکن قطر کے آج بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے باعث قطر سے اسرائیل سے خصوصی پروازوں کی اجازت دے دی ہے اور اسرائیلی نیوز چینلز کے نمائندے میگا ایونٹ کی کوریج کے لیے دوحہ میں موجود ہیں۔
فلسطینیوں ظلم و بربریت کے باعث اسرائیلی نیوز چینلز کو عرب شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے کئی ویڈیوز ٹوئٹر پر وائرل ہوچکی ہیں۔
More of the same here pic.twitter.com/31cFjpK2sv
— لينة (@LinahAlsaafin) November 20, 2022
ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ایک نیوز اینکر عربی میں کچھ شائقین سے گفتگو کرتا ہے، مداح ان سے رپورٹر سے ملک کے بارے میں معلوم کرتا ہے، رپورٹر خود کو اسرائیلی ظاہر کرتا ہے تو لبنانی اس سے بات کئے بغیر چلے جاتے ہیں۔
ایک لمحے بعد لبنانی مداح واپس آتے اور رپورٹر کو کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل نہیں فلسطین ہے۔
ٹوئٹر پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک رپورٹر دوحہ میں فٹ بال شائقین کے لئے جھنڈے اور دیگر چیزیں بیچنے والے دکاندار سے بات کرتا ہے۔
Qatari in Souq Waqif refuses interview after finding out it’s an Israeli channel pic.twitter.com/p2lr1gfbur
— لينة (@LinahAlsaafin) November 20, 2022
ابتدا میں دکاندار رپورٹر سے بات کرنے کے لئے راضی ہوجاتا ہے لیکن جب رپورٹر خود کو اسرائیلی بتاتا ہے تو وہ اس سے بات کرنے سے ہی انکار کردیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








