فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ظلم ہے، بھارتی مہاتما گاندھی کی تاریخی گواہی بھول گئے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مہاتما گاندھی کو دنیا ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کرتی ہے جنہوں نے ہمیشہ عدم تشدد، امن، اور اخلاقی سیاست کی وکالت کی۔ ان کے خیالات نہ صرف ہندوستان کی آزادی کے لیے مشعلِ راہ تھے، بلکہ عالمی مسائل پر بھی ان کی رائے ہمیشہ اصولی اور ضمیر کی آواز پر مبنی رہی۔

فلسطین کے معاملے میں بھی گاندھی نے 1938 میں اپنا موقف پوری صاف گوئی کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا۔ انہوں نے اپنے رسالے ہریجن میں لکھا کہ فلسطین، عربوں کا وطن ہے، بالکل اسی طرح جیسے انگلینڈ انگریزوں کا ہے۔ اس ایک جملے میں گاندھی نے اس دور کے سیاسی منظرنامے پر ایک اخلاقی لکیر کھینچ دی، جو آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

مہاتما گاندھی نے صہیونیت کو دو حصوں میں دیکھا۔ ایک روحانی پہلو، جو کہ یہودیوں کی اپنی سرزمین سے محبت اور مذہبی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے جسے گاندھی نے قابلِ احترام سمجھا۔ لیکن دوسرا پہلو، یعنی سیاسی صہیونیت جہاں طاقت، بیرونی حمایت اور فوجی مداخلت کے ذریعے زمین پر قبضہ کیا جائے اس کی وہ سخت مخالفت کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہودی فلسطین میں رہنا چاہتے ہیں، تو انہیں وہاں کے لوگوں، یعنی عربوں، کی رضا مندی حاصل کرنی چاہیے، نہ کہ کسی سامراجی طاقت کے سہارے ان کی زمین پر بسنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

گاندھی نازی جرمنی میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے غافل نہیں تھے۔ انہوں نے کھل کر ان مظالم کی مذمت کی، لیکن ساتھ ہی ایک نہایت اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ ایک ظلم کا ازالہ دوسرے ظلم سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک مظلوم قوم خود کسی اور قوم پر ظلم کرے، تو وہ اپنے اصول کھو بیٹھتی ہے۔

گاندھی کا یہ عقیدہ تھا کہ ہر قوم کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حق ہے، لیکن اس جدوجہد کی بنیاد اخلاق، امن اور بھائی چارے پر ہونی چاہیے۔ طاقت یا جنگ سے حاصل ہونے والی فتح وقتی ہو سکتی ہے، لیکن دیرپا امن صرف افہام و تفہیم سے ہی ممکن ہے۔

فلسطین میں یہودی آبادکاری پر گاندھی کا یہی مؤقف تھا کہ صرف اسی وقت یہ عمل جائز ہو سکتا ہے جب وہاں کی مقامی آبادی اسے قبول کرے۔ زبردستی یا سیاسی حمایت سے زمین لینا، ان کے نزدیک، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔

گاندھی کی فلسطین سے متعلق رائے کوئی وقتی تبصرہ نہیں تھا، بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ آج، جب اسرائیل-فلسطین تنازعہ بدستور عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے، گاندھی کے الفاظ پہلے سے زیادہ معنی رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کے حقوق سیاسی سودے بازی سے نہیں، بلکہ انصاف اور احترام سے محفوظ ہوتے ہیں۔

Related Posts