بارہ روزہ جنگ: ایران اور اسرائیل کے نقصانات کا جائزہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Israel-Iran air war enters second week
ONLINE

دنیا نے بہت سی جنگیں دیکھی ہیں، مگر اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ براہِ راست تصادم نے نہ صرف سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بلکہ معیشت کے در و دیوار کو بھی لرزا دیا ہے۔ اسرائیل کے اندر ہونے والے ایرانی میزائل حملوں نے پہلی بار ایسا منظر پیش کیا ہے جہاں تل ابیب جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی خوف کی چادر تن گئی ہے لیکن یہ جنگ صرف بارود اور لاشوں کی جنگ نہیں، بلکہ شیکل (اسرائیلی کرنسی) میں بہنے والے خون کی داستان بھی ہے۔
ذیل میں ہم نے الجزیرہ کے حوالے سے جنگ کے دوران ہونے والی خونریزی کے ساتھ مختلف شعبوں میں طرفین کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل و مفصل احاطہ کیا ہے، جس میں پہلے اسرائیل کو جنگ سے پہنچنے والے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات، حکومتی ردعمل، انشورنس مارکیٹ کی بے چینی، کاروباری طبقے کی چیخ و پکار اور دفاعی بجٹ کی آسمان کو چھوتی ہوئی وسعتیں شامل ہیں۔ اس کے بعد ایرانی نقصانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔
پہلا زخم: جانی نقصانات:
اسرائیل نے میڈیا پر پہلے سے عائد سنسرشپ کی پالیسی کو مزید سخت کر دیا۔ تیسرے دن غیر ملکی میڈیا کی کوریج پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور مقامی شہریوں کو دجالی حکومت نے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنے پر 70 ہزار شیکل جرمانہ کے ساتھ 20 سال قید کی وارننگ دے دی۔ اس سب کے باوجود دجالی فوج نے جن جانی نقصانات کا خود اعلان کیا، وہ حسب سابق ہیں:
ایران کی طرف سے داغے گئے کروز و بیلسٹک میزائل حملوں میں کم از کم 31 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، خاص طور پر نیگیو، حیفا اور رامون بیس پر حملوں میں، جبکہ ایرانی ڈرون حملوں، خاص طور پر بازان آئل ریفائنری اور رہائشی عمارات پر حملوں میں 20 شہری جان کی بازی ہار گئے۔ مشترکہ اندازوں کے مطابق 2500 سے زائد اسرائیلی زخمی ہوئے۔
تباہ شدہ اہم تنصیبات:
سائنس و ٹیکنالوجی کے معروف ادارے معہد وایزمن پر ایک میزائل حملے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے اور عمارت تباہ ہوگئی۔ بازان ریفائنری، حیفا پر حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی، متعدد فائر فائٹرز اور ورکرز زخمی ہوئے۔ ہزاروں اسرائیلی شہری نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں، خصوصاً شمالی اسرائیل سے 10,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ PTSD (Post-Traumatic Stress Disorder) اور دماغی صحت کے مراکز میں مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
میزائل اور معیشت:
22 جون 2025 کو ایران کے براہِ راست میزائل حملے نے تل ابیب میں 25 سے زائد عمارات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے مطابق صرف اس ایک حملے کے بعد 40 ہزار سے زائد افراد نے ہنگامی انشورنس کلیمز داخل کیے۔ جبکہ ماضی میں، غزہ جنگ کے دوران صرف ایک عمارت کو اس درجے کی تباہی کا سامنا ہوا تھا۔ ان حملوں کے بعد شہریوں میں انشورنس کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ صرف دو ہفتوں میں 53 ہزار نئی انشورنس پالیسیاں خریدی گئیں، جو قیمتی اشیاء، فرنیچر اور جواہرات کو کور کرتی تھیں۔ انشورنس کے اضافی چارجز میں 0.3 فیصد تک اضافہ ہوا تاکہ گھریلو مواد کے نقصانات کو ممکنہ حد تک پورا کیا جا سکے۔
خالص خسارہ، حکومت کے سر پر مالی بم:
اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق صرف دو ہفتوں میں 4.5 ارب شیکل (تقریباً 1.3 ارب ڈالر) کے کلیمز کی ادائیگی ہو چکی ہے اور یہ تعداد 5 ارب شیکل سے تجاوز کر سکتی ہے۔ نائب وزیر خزانہ “مِری ساویون” کے مطابق: “یہ ابتدائی تخمینے ہیں، مگر ناقابلِ یقین حد تک بلند۔ ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔” معہد وائزمین میں لگنے والی آگ کے سبب 2 ارب شیکل اور حیفا میں آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی مد میں کروڑوں شیکل کا نقصان ہوا۔ ان دو واقعات کو “تاریخ کے مہنگے ترین سویلین نقصانات” میں شامل کیا گیا۔
کاروباری طبقے کا شور و غوغا:
سرکردہ 1000 کمپنیوں نے وزیر خزانہ کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے ملازمین کے لیے “کورونا طرز” چھٹی کا نظام فعال نہ کیا گیا، تو وہ ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں بند کر دیں گے۔ موجودہ حالات میں وہ اپنے ملازمین کو دفتر بلانے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر وہ جن کے بچے 14 سال سے کم عمر کے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت کی موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق وہ صرف ان کمپنیوں کو معاوضہ دے گی جنہیں 25 فیصد سے زیادہ کاروباری نقصان ہوا ہو اور ملازمین کی تنخواہ کا 75 فیصد حکومت ادا کرے گی۔
دفاعی بجٹ کی قلابازیاں:
ایران کے ساتھ جنگ اور اس سے پہلے جاری “عربات جدعون” نامی آپریشن کی مد میں دفاعی اخراجات نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔ 2025ء کی دفاعی بجٹ جو کہ ابتدائی طور پر 110 ارب شیکل مقرر تھی، اس میں مزید 3.6 ارب شیکل کا اضافہ کیا گیا ہے، جن میں سے 699 ملین شیکل صرف غزہ کے باشندوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے مختص کیے گئے۔ اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف ایران جنگ کی روزانہ کی لاگت ایک ارب شیکل سے زائد ہے اور اگر جنگ کا دورانیہ ایک ماہ تک پہنچتا ہے تو مجموعی لاگت 40 ارب شیکل سے بڑھ سکتی ہے۔
رہائشی بحران، خالی ہوتی بستیاں:
اب صبح تک 10,630 افراد کو ان کے گھروں سے نکالا جا چکا تھا۔ ان افراد کو یا تو ہوٹلز میں منتقل کیا گیا یا پھر ان کے رشتہ داروں کے ہاں۔ اگر کوئی شہری اپنی مدد آپ کے تحت کسی اور جگہ منتقل ہوتا ہے تو اسے 4000 شیکل کا فوری معاوضہ دیا جاتا ہے۔
مالیاتی خسارہ:
“کالکالیست” اقتصادی جریدے کے مطابق سال 2024 کے آخر تک اسرائیل کی جنگی لاگت 142 ارب شیکل تک پہنچ چکی تھی۔ یہ جنگی اخراجات بجٹ خسارے میں 106 ارب شیکل کا اضافہ کر چکے ہیں۔ صرف دسمبر 2023 میں 17.2 ارب شیکل خرچ کیے گئے جبکہ جنوری تا اپریل 2025 میں یہ اخراجات 20.5 ارب شیکل کی سطح پر پہنچ گئے۔
دفاعی نظاموں کا خرچہ:
نیر کیپنس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ غزہ کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ “آئرن ڈوم” جیسا نظام بھی اس کے مقابلے میں سستا لگنے لگا ہے، کیونکہ ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے “آرو” اور دیگر جدید میزائل دفاعی نظام استعمال کیے جاتے رہے، جن میں فی میزائل لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اسرائیل نے 200 سے زاید فضائی بیڑے اور ہزاروں انٹرسیپٹرز (Arrow, David’s Sling) استعمال کیے، جس کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ گئی۔
جی ڈی پی پر بھی کاری ضرب:
یہ جنگ محض انفرادی نقصانات تک محدود نہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (GDP) پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔ ایک جانب صنعتی شعبہ بند پڑا ہے تو دوسری جانب کمپنیوں کی پیداوار 25 فیصد سے بھی زیادہ گر چکی ہے۔ “ہستدروت” (اسرائیل کا سب سے بڑا لیبر یونین) کے نائب سربراہ “آدم بلومبرگ” کے مطابق: “ملک میں ایک دن کے لاک ڈاؤن کی لاگت تقریباً 1.5 ارب شیکل ہے۔ اب تک بیسیوں دن ضائع ہو چکے ہیں۔”
مگر پھر بھی فتح نصیب نہیں:
اگر اس جنگ کا کوئی فاتح ہے تو وہ موت، بارود اور غربت ہے۔ اسرائیل جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی معیشت کی بنیادیں لرز چکی ہیں۔ دفاعی اخراجات، انشورنس کلیمز، انسانی نقل مکانی اور کاروباری دیوالیہ پن، یہ سب وہ خمیازہ ہیں جو ایک “شعلہ زدہ طاقت کی تمنا” نے قوم پر مسلط کر دیا۔ مگر شاید سب سے بڑا نقصان وہ ہے جو اعداد و شمار میں نہیں آتا یعنی خوف، غیر یقینی مستقبل، قومی اضطراب اور “چل میرے ہم نشیں، کہیں اور چل” کی گنگناہٹ۔ یعنی دنیا جہان سے جن صہیونیوں کو دجالی ریاست نے ان کی “خوابوں کی سرزمین” میں جمع کیا تھا، اب وہ محفوظ نہیں رہی۔ ایرانی میزائلوں نے اس کے ناقابل تسخیر اور تل ابیب کے فول پروف سیکورٹی زون ہونے کا تصور ہوا میں تحلیل کر دیا۔ اب یورپ اور امریکا سے آنے والے عالی دماغ، تعلیم یافتہ اور ہنرمند یہودی، سب سے بڑھ کر صاحب ثروت دجالی الٹے قدموں واپس بھاگنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے، کیونکہ اس کے دور رس مضمرات ہوں گے۔ باقی نقصانات کی تلافی جلد ہوسکتی ہے۔
ایران کے نقصانات:
22 جون 2025 کو شروع ہونے والی جنگ نے ایران کی بھی معیشت، عسکری انفرا اسٹرکچر اور شہری آبادی پر مہلک اثرات مرتب کیے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، حکومتی بیانات اور دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق، ایران کو نہ صرف درجنوں جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، بلکہ اس کی جوہری تنصیبات، فوجی ذخائر اور بنیادی معیشت بھی تباہ کن متاثر ہوئی ہے۔
جانی نقصان:
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 224 ایرانی شہری و فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ 200 سے زائد زخمی ہیں۔ تہران، کرج اور اصفہان میں فضائی حملوں سے متعدد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں عام شہری بھی نشانہ بنے۔ لیکن ان میں ایسے قیمتی افراد بھی تھے، جن کا نعم البدل تیار ہونے میں دہائیاں درکار ہیں۔ یعنی سائنسدانوں و افسران کی ہلاکتیں۔ فوربس اور فاٖنانشل ٹائمز کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ متعدد سائنسدان اور ماہرین جاں بحق یا شدید زخمی ہوئے۔ جن کی تعداد 18 بتائی جاتی ہے۔ آج آخری حملے میں بھی ایک سینئر نیوکلیئر سائنسدان محمد رضا صدیقی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جنگ میں آرمی چیف سمیت 12 جنرل اور 18 سائنسدان جاں بحق ہوئے۔ لیکن ایرانی ذرائع جانی نقصانات بہت زیادہ بتا رہے ہیں۔ خبر گزاری ہرانا کے مطابق مجموعی طور پر 2694 افراد متاثر ہوئے۔ جن میں 657 ہلاک اور 2037 زخمی شامل ہیں۔ ہلاک شدگان میں 263 عام شہری، 164 فوجی اور 230 نامعلوم ہیں۔
فوجی و دفاعی نقصان:
جوہری تنصیبات نطنز، فردو اور اراک میں واقع کئی سینٹری فیوجز اور زیر زمین جوہری مراکز پر حملے کیے گئے۔ اسرائیلی ڈرون اور “بلاک آؤٹ بمز” نے فردو کمپلیکس کے اندر دھماکے کیے، جن کے باعث جوہری افزودگی کا عمل وقتی طور پر رک گیا۔ جبکہ ایران کے میزائل ذخائرکو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مشرقی حصوں میں موجود بیلسٹک میزائل کے کئی گودام تباہ ہو گئے، جن میں شہاب-3 اور سجیل میزائل رکھے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ریڈار اور فضائی دفاعی نظام بھی ہدف بنا۔ اسرائیلی F-35 طیاروں کے حملوں میں S-300 اور Bavar-373 جیسے ایرانی دفاعی نظام کو تباہ کیا گیا یا ناکارہ بنایا گیا۔ انقلابی گارڈز کے مراکز بھی نشانہ بنے۔ سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) کی جنوبی ایران میں کئی عسکری چھاؤنیاں حملوں کا نشانہ بنیں۔ ایران نے 400 سے زاید میزائل داغے، جن میں سے محض چند ہدف کو لگے۔ ایران کے میزائل ذخیرے میں کمی آئی (تقریبأ 25 فیصد)۔ بڑے میزائل جیسے سجیل اور شہاب کی قیمت ایک ملین ڈالر تک ہوتی ہے۔
معاشی و صنعتی نقصان:
ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کو 5 سے 7 ارب امریکی ڈالر کا فوری نقصان ہوا، جو آئندہ مہینوں میں 15 سے 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ بندر عباس، بوشہر اور خرمشہر میں موجود آئل ریفائنریاں اور برآمدی لائنز کو نقصان پہنچا۔ نتیجتاً، ایران کی روزانہ تیل برآمدات میں 30 فیصد تک کمی آئی۔ حملوں سے ایران کے کئی تھرمل پاور پلانٹس متاثر ہوئے، خاص طور پر قم اور یزد میں، جس کے نتیجے میں بجلی کی شدید قلت پیدا ہوئی۔ ایران کی کرنسی ریال کی قدر میں حملوں کے بعد15 فیصد تک کمی دیکھی گئی اور بلیک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 700,000 ریال سے بھی تجاوز کر گئی۔
سیاسی و معاشرتی ردعمل:
مہنگائی اور بجلی کی بندش سے عوامی غصہ بھڑک اٹھا، خاص طور پر تہران اور اصفہان میں مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ اپوزیشن جماعتوں اور اصلاح پسندوں نے حکومت کی غیر محتاط عسکری پالیسی پر شدید تنقید کی۔ سپریم لیڈر خامنہ ای نے ملک گیر خطاب میں “مذہبی اور دفاعی فریضہ” کی یاد دہانی کروائی، مگر شہریوں کا ردعمل سرد رہا۔
ماہرینِ معیشت کی رائے:
پروفیسر ہاشم ہمدانی (تہران یونیورسٹی) کا کہنا ہے کہ “ایران شاید عسکری میدان میں مضبوط نظر آئے، مگر معیشت کی بنیادیں خستہ ہو چکی ہیں اور مسلسل جنگ اسے نچوڑ کر رکھ دے گی۔ نتیجتاً جی ڈی پی میں 6 سے 8 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔”
ایران کو اس جنگ میں انسانی و عسکری طور پر بھاری نقصان ہوا ہے، مگر سب سے گہرا زخم اس کی معیشت پر لگا ہے۔ اگرچہ حکومتی بیانیہ جنگ کو “مزاحمت” اور “دینی دفاع” کے الفاظ میں لپیٹنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ ایران کے مالیاتی و معاشرتی ڈھانچے پر تباہ کن اثرات مرتب ہو چکے ہیں اور یہ اثرات آئندہ برسوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ (بحوالہ: الجزیرہ)

Related Posts