اسرائیلی پروپیگنڈا بے نقاب! آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی ویڈیو اصلی یا جعلی؟ جانیں حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹع؛ اسکرین گریب)

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کو ظاہر کرتی ہے دراصل پرانی اور غیر متعلقہ ثابت ہوئی ہے۔ فیکٹ چیک رپورٹ میں اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے اصل صورتحال واضح کر دی گئی ہے۔

یہ ویڈیو 13 اپریل 2026 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) پر مختلف صارفین کی جانب سے شیئر کی جا رہی تھی۔ پوسٹس میں کہا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی سمندری راستے بند کر دیئے ہیں لیکن جانچ پڑتال سے یہ مؤقف درست ثابت نہیں ہوا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس وائرل مواد کی جانچ کے بعد اسے جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ ریورس امیج سرچ اور دستیاب ڈیجیٹل شواہد کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ آیا ویڈیو کسی حالیہ فوجی کارروائی سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں تاہم کسی بھی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے، ایرانی ذرائع یا امریکی فوجی حکام نے اس فوٹیج کو موجودہ صورتحال سے منسلک نہیں کیا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ویڈیو کم از کم مئی 2022 سے آن لائن موجود ہے اور اس کا موجودہ کشیدگی یا مبینہ ناکہ بندی سے کوئی تعلق نہیں۔

خطے کی صورتحال اور سفارتی پس منظر

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد حالات بگڑ گئے جس کے نتیجے میں خطہ ایک وسیع تنازع کی طرف بڑھ گیا۔

اس دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بحال کرنے میں سہولت کاری کی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں 8 اپریل 2026 کو دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ اسی سلسلے میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات بھی ہوئے تاہم یہ بات چیت مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

بعد ازاں 13 اپریل 2026 کو امریکی فوج کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی کے اقدامات کیے گئے جبکہ یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ویڈیو کیسے وائرل ہوئی؟

13 اپریل کو ایک پرو اسرائیلی سوشل میڈیا صارف نے یہ ویڈیو ایکس پر شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تھی تاہم امریکہ نے خود یہ راستہ بند کر دیا۔ اس پوسٹ کو تقریباً 1.6 ملین ویوز ملے۔

اسی طرح ایک اور اکاؤنٹ نے اسی کلپ کو شیئر کرتے ہوئے اسے امریکی بحری ناکہ بندی کی شروعات قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام کشیدگی میں بڑی شدت کی علامت ہے۔ اس پوسٹ کو بھی 7 لاکھ 55 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔

بعد ازاں متعدد دیگر صارفین نے بھی یہی دعویٰ مختلف انداز میں دہرایا اور ویڈیو کو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔

تحقیق کا طریقہ کار

فیکٹ چیک کے دوران ویڈیو کی تصدیق کے لیے ریورس امیج سرچ کی گئی تاکہ اس کے اصل ماخذ کا پتہ چلایا جا سکے تاہم کسی بھی مستند عالمی میڈیا یا سرکاری ادارے نے اس ویڈیو کو حالیہ امریکی بحری کارروائی سے منسلک نہیں کیا۔

مزید تلاش کے دوران یہ ویڈیو ایک پرانی فیس بک پوسٹ (13 مئی 2022) میں بھی موجود پائی گئی تاہم وہاں بھی اس کا کوئی واضح سیاق و سباق فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ فوٹیج ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی منسلک ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ امریکی بحریہ سے وابستہ ایک شخص کا ہے۔

حتمی نتیجہ

تمام دستیاب شواہد اور ڈیجیٹل تجزیے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا جانے والا دعویٰ غلط ہے۔ وائرل ویڈیو کسی موجودہ امریکی بحری ناکہ بندی یا آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ یہ پرانی فوٹیج ہے۔

حوالہ

13 مئی 2022 کی فیس بک ویڈیو:

https://www.facebook.com/watch/?v=362174172557200

Related Posts