یروشلم: غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بدترین اور وحشیانہ کارروائیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3700 تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کے وزیردفاع یووگیلینٹ نے جنگ طویل اور سخت ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے فوج سے کہا ہے کہ آپ غزہ کو دور سے دیکھتے ہیں، اب آپ اندر سے دیکھیں گے۔
انہوں نے غزہ میں زمین کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ طویل اور سخت ہوگی۔ جس کے بعد حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے عرب اور مسلم دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب مارچ کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو صیہونی جارحیت سے بچایا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے رفاح میں بھی گھروں پربم برسائے جس میں 33 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی طیاروں نے الزیتون علاقے میں آرتھوڈوکس چرچ کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں سیکڑوں افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، یہ گرجاگھر اسی اسپتال کے ساتھ واقع ہے جہاں اسرائیلی فوج نے 500 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔
غزہ کی صورتحال انتہائی سنگین قرار، فلسطینیوں کی شہادتیں بڑھ گئیں، غذائی بحران کا خدشہ
ادھر مغربی کنارے میں نورالشمس پناہ گزیں کیمپ پر حملے میں 12 فلسطینی شہید کیے گئے جب کہ خان یونس علاقے میں بمباری سے 7 فلسطینی موت کی آغوش میں گئے۔
جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر جمعرات کو بھی بمباری جاری رہی، غزہ کے علاقے کراما میں 14 منزلہ الاندلس ٹاور اور الزہرہ شہر میں تین بلند عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردی گئی ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہےکہ مجموعی طورپر مرنے والوں میں 1500 سے زائد بچے، ایک ہزار خواتین اور 120 بزرگ شامل ہیں جب کہ تباہ عمارتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ رضاکاروں کے لیے ملبے تلے دبے تمام افراد کونکالنا ممکن ہی نہیں رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








