امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے دعوؤں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے جہاں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر اسرائیلی حملوں کی خوفناک ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جن پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی اور صورتحال میں بہتری کے دعوے بھی زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں جبکہ خطے میں انسانی جانوں کا نقصان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔
لبنانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے جن میں جنوبی لبنان کے علاقے سہل القاسمیہ اور مشرقی علاقے بعلبک کے قصبے دورس کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ میں سرکاری عمارت کے قریب ہونے والے حملے میں لبنانی اسٹیٹ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 12 تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے سے نہ صرف عمارت کو شدید نقصان پہنچا بلکہ اردگرد کا انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 2 مارچ سے شروع ہونے والے فوجی آپریشنز کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 4300 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ تنظیم کے 1400 سے زائد ارکان مارے گئے ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 1888 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 163 بچے بھی شامل ہیں جس سے انسانی بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی حکام کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کو روکا جائے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی ان کوششوں کو چیلنج کر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل و لبنان کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم اس حوالے سے زمینی کارروائیوں میں کمی یا انخلا کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے لبنان میں شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا ہر حال میں احترام ضروری ہے اور شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، اور تمام فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے جانی نقصانات کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں عالمی طاقتوں کی امن کوششیں تاحال خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








