امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں کہیں گم ہوگئیں اور اب ایران خود بھی انہیں نہیں ڈھونڈ پارہا۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایران اپنی ہی بچھائی ہوئی سرنگوں کے مقامات بھول گیا۔
تفصیلات کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کی دی گئی آگہی کے حوالے سے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز میں امریکا سے جنگ کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں نہ صرف ناکام ہوگیا بلکہ ایرانی حکام کے پاس ان سرنگوں کو ہٹانے کیلئے ضروری تکنیکی صلاحیت کا بھی فقدان ہے۔
یہ وہ صورتحال ہے جس کے باعث آبنائے ہرمز کی بحالی تاخیر کا شکار ہے جس سے عالمی معیشت پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ امریکا و اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی چھوٹی کشتیون کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا عمل شروع کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام افراتفری اور غیر منظم انداز سے کیا اور یہی وجہ ہے کہ ایران کو یہ جاننے میں دشواری ہورہی ہے کہ کون سی بارودی سرنگ اب کہاں ہے جبکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ سمندر کا بہاؤ بہت سی بارودی سرنگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ لے گیا ہو۔
ممکنہ بارودی سرنگوں کی موجودگی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلئے خطرہ بن گئی۔ بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ کھولی جائے گی۔ اس پر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تکنیکی حدود سے مراد کھوئی ہوئی بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے میں درپیش مشکلات ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 2 ہفتوں کی جنگ بندی آبنائے ہرمز کی فوری اور محفوظ طریقے سے رسائی ہوگی، اور یہی وجہ ہے کہ آج سے اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کیلئے بھی یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ماہرین کا ماننا ہےکہ بارودی سرنگیں بچھانا آسان عمل سہی، انہیں ہٹانا ایک ایسا پیچیدہ کام ہے جس کیلئے ایران کو جدید ترین نظام کی ضرورت ہے جو سمندر کی تہہ میں چھپی ہوئی سرنگوں کو تیزی سے ختم کردے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کا صرف ایک تنگ راستہ کھلا چھوڑا ہے جہاں سے بحری جہازوں کو بھاری ٹول ٹیکس کی ادائیگی کےس اتھ گزرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








