اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کے ہیڈکوارٹر پر بدترین حملے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو فرانسیسی میڈیا

اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر ایک بڑے حملے میں ایک پورا علاقہ تاراج کر ڈالا۔ کئی عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ ملیشیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ محفوظ ہیں۔

اسرائیل کسی بھی وقت جنوبی لبنان پر زمینی حملہ کرسکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے درجنوں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ساز و سامان لبنانی سرحد پر پہنچادیا ہے۔ فوج کو واضح احکامات بھی دیے جاچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے میں حزب اللہ ملیشیا کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بڑا حملہ کیا ہے۔

لبنان سے ملحق سرحد پر غیر معمولی عسکری نقل و حرکت کے پیشِ نظر سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد محفوظ علاقوں کی طرف چلے جائیں۔ حزب اللہ سے زمینی لڑائی نے زور پکڑا تو سرحدی علاقوں میں بسنے والوں کو جانی نقصان زیادہ ہوگا۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے آرمی چیف جنرل ہرزی ہلیوی نے دو دن قبل انتباہ کیا گیا تھا کہ جنوبی لبنان سے حملے روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جارہے ہیں اور زمینی حملوں کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی کئی دن سے تیاریاں کر رہی ہے۔

جنرل ہرزی ہلیوی کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی اسرائیل پر حملے کرنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ زمینی کارروائیاں بھی کی جائیں اور بنیادی ڈھانچا بالکل تباہ کردیا جائے۔

اسرائیلی فوج نے چند دنوں میں جنوبی لبنان میں، جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، حزب اللہ کے 500 سے زیادہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بمباری اور میزائل حملوں میں 700 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد حزب اللہ کے ارکان کی ہے۔ ابراہیم عقیل، احمد وہبی اور حزب اللہ کے دیگر ٹاپ کمانڈر شہید کردیے گئے ہیں۔

حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈیڑھ سے زیادہ راکٹ شمالی اسرائیل پر داغے گئے ہیں جن میں بیشتر اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے جھپٹ لیے۔

اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں حزب اللہ کے مزید 220 ٹھکانوں کو نشانہ بنا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے 5 شامی فوجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

Related Posts