کراچی : اقراء یونیورسٹی کاروزہ کانووکیشن اختتام پذیر ہوگیا۔ دو روزہ ایونٹ میں، کورونا وائرس کی ایس او پیز کی پاسداری کرتے ہوئے اقراء یونیورسٹی کے 650 فارغ التحصیل طلباء نے اپنے خاندان کے ساتھ شرکت کی ۔
کانووکیشن کے دوسرے دن کے مہمان خصوصی نے قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ اور سندھ کے صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈ محمد اسماعیل راہو تھے ۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نےاپنے خطاب میں معیاری گریجویٹس تیار کرنے میں اقراء کے کام کو سراہتے ہوئے کہاکہ گریجویٹ بنانا کوئی اہم کارنامہ نہیں بلکہ معیاری گریجویٹس بنانا اقرا یونیورسٹی کاایک کارنامہ ہے۔
انہوں نے طلباء کو بھی یاد دلایا کہ وہ اپنے والدین کے قرض کو تسلیم کریں۔ طلباء کو والدین کی اہمیت اور کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ”جب آپ کمزور تھے، اور اپنی دیکھ بھال کرنے کے قابل نہیں تھے، تو اس وقت آپ کے والدین ہی تھے جنہوں نے آپ کی اچھی دیکھ بھال کی، آپ کو تعلیم دی اور آپ کو اس مقام تک پہنچایا اوراب، جب وقت بدل گیا ہے اور آپ زیادہ طاقتور اور زیادہ خود مختار ہو گئے ہیں، ایسے میں آپ کے والدین کمزور ہو گئے ہیں، تو آپ کو ہمیشہ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ آج آپ جو بھی ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ سے ہی ہیں آپ کو ان کا شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ وہ نہ صرف وہ آپ کو اس دنیا میں لائے بلکہ آپ کو ایک بہت ہی کامیاب انسان بنایا ۔”
کانووکیشن کےدوسرے سیشن میں سندھ کے جامعات اور بورڈ کے صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے طلباء کو ان کی گریجویشن اور اقراءیونیورسٹی کو ملک میں تعلیم کو بہتر بنانے اور اسے تمام شہریوں کے لیے دستیاب کرنے پر مبارکباد دی۔محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ”اقراءیونیورسٹی دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی تعلیم فراہم کرنے میں بہت اچھا اوراہم کردار ادا کر رہی ہے ۔
انہوں نے اقرا یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اقرا یونیورسٹی معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے،اور ایک غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر، یہ معیاری تعلیم کے حصول میں غیر مراعات یافتہ طلباء کی بھی مدد کرتی ہے،” ۔
واضح رہے کہ کانووکیشن کے دوسرے روز مجموعی طور پر چار سیشن ہوئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ اور محمد اسماعیل راہو کے علاوہ دیگر مہمانان خصوصی میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون جناب مرتضیٰ وہاب اور چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل محمد نجیب ہارون شامل تھے۔
مزید پڑھیں:اقراء یونیورسٹی نے کورونا کے دوران بھی لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








